شریف خاندان کی ن لیگ کی قیادت سے دستبرداری کی خبریں

شریف خاندان کی نیب آفس میں شہباز شریف سے ہونے والی ملاقات میں پارٹی کی قیادت کے لیے شاہد خاقان عباسی،احسن اقبال اور خواجہ آصف کے نام زیر غور آئے۔ سیاسی مبصرین

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان منگل نومبر 14:26

شریف خاندان کی ن لیگ کی قیادت سے دستبرداری کی خبریں
لاہور (اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار-20 نومبر 2018ء) : معروف صحافی سعید قاضی کا کہنا ہے کہ کچھ روز قبل نیب آفس میں شریف خاندان کی آپس میں ہونے والی ملاقات سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ نیب آفس میں ہونے والی اس ملاقات میں پارٹی کی قیادت سنبھالنے کے لیے ناموں پر غور کیا گیا۔جس کے لیے سابق وزیر داخلہ احسن اقبال،سابق وزیر خارجہ خواجہ آصف اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا نام لیا گیا۔

جب کہ صوبائی اور قومی اسمبلی کے اراکین میں بھی یہ خبریں گردش کر رہی ہیں کہ وہ مسلم لیگ ن کی ایک الگ جماعت بنا لیں۔وہ کہہ رہے ہیں کہ اس گھرانے سے جان چھڑا لیں اور اپنی پارٹی بھی بچا لیں۔جس پر پروگرام میں موجود تجزیہ نگار چوہدری غلام حسین کا کہنا ہے کہ پارٹی بچنی ہے اور نہ ہی گھرانہ علیحدہ ہونا ہے جن لوگوں کا پارٹی قیادت کے لیے نام لیا جا رہا ہے کیا انہوں نے کم لوٹ مار کی ہے؟۔

(جاری ہے)

واضح رہے تین روز قبل آشیانہ ہائوسنگ اسکینڈل میں گرفتاراپوزیشن لیڈر شہباز شریف سے سابق وزیراعظم نوازشریف نے ملاقات کی تھی۔مسلم لیگ(ن)کے قائد میاں نوازشریف ، مریم نواز اور حمزہ شہباز لاہور نیب آفس پہنچے جہاں انہوں نے میاں شہباز شریف سے ملاقات کی۔ ذرائع کے مطابق شہباز شریف کی ناسازی طبیعت کی اطلاع پر نوازشریف ملاقات کے لیے پہنچے اور چھوٹے بھائی سے ان کی صحت سے متعلق دریافت کیا۔

شہباز شریف کے بیٹے حمزہ شہباز نے بھی والد سے خیریت دریافت کی ۔سابق وزیراعظم کی آمد پر نیب آفس میں سیکورٹی سخت کردی گئی تھی جب کہ اطراف میں بھی اضافی پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔واضح رہے کہ احتساب عدالت نے آشیانہ ہائوسنگ اسکینڈل میں سابق وزیراعلی پنجاب میاں شہباز شریف کو 14 روزہ ریمانڈ پر نیب کی تحویل میں دے رکھا ہے۔