کیا عثمان بزدار نے عمران خان پر کوئی جادو ٹونا کر رکھا ہے؟

میں عثمان بزدار سے بس ایک بات پوچھنا چاہتا ہوں کہ آخر انہوں نے وزیراعظم کو کیا گھول کر پلایا ہے کہ جس کپتان کے پیچھے دنیا رل رہی ہے وہ عثمان بزدار کے پیچھے ہے

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان جمعرات دسمبر 10:56

کیا عثمان بزدار نے عمران خان پر کوئی جادو ٹونا کر رکھا ہے؟
لاہور (اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔06 دسمبر 2018ء) معروف صحافی ارشاد بھٹی کا کہنا ہے کہ میں نے عثمان بزدار سے پوچھنا ہے کہ آخر انہوں نے وزیراعظم کو کیا گھول کر پلایا ہے اور ان پر ایسا کیا جادو ٹونا کیا ہے وہ کپتان جس کے پیچھے دنیا رل رہی ہے وہ عثمان بزدار کے پیچھے ہے۔اللہ عثمان بزدار کو خوش رکھے لیکن ان کو وقت ملے تو وہ مجھے ضرور بتائیں کہ آخر کیا وجہ ہے کہ عمران خان عثمان بزدار کی اتنی حمایت کرتے ہیں۔

واضح رہے عثمان بزدار کے بارے میں پہلے صحافیوں کی رائے اچھی نہیں تھی اور سیاسی مبصرین کا کہنا تھا کہ ایک نا تجربہ کار شخص اتنا بڑا صوبہ سنبھالنے کا اہل نہیں ہے ۔کئی صحافیوں کی جانب سے عثمان بزدار پر تنقید کی جاتی ہے۔معروف صحافی کامران شاہد نے کہا تھا کہ ہےعمران خان نے جتنی تعریفوں کے پل عثمان بزدار کے باندھے اتنے آج تک کسی کے نہیں باندھے، جو عمران خان نے فرمایا اسے سن کر آنکھیں اور عقل دنگ رہ گئیں۔

(جاری ہے)

مجھے نہیں یاد پڑتا کہ عمران خان نے اتنی تعریفیں کبھی شاہ محمود قریشی یا کسی اور بڑے پارٹی لیڈر کی کیں ہوں۔ لیکن عمران خان جیسے شخص نے جب عثمان بزدار کی قائدانہ صلاحیتوں سے متعلق سب کو بتایا تو ہر کسی کی آنکھ میں آنسو آ گئے،کامران شاہد کا کہنا تھا کہ جب سپریم کورٹ نے ڈی پی او پاکپتن تبادلہ کیس میں عثمان بزدار کو بلایا تو اس وقت وزیراعلیٰ پنجاب پسینے سے شرابور ہو کرعدالت سے باہر آئے۔

عمران خان نے کہا تھا کہ عثمان بزدار ٹیم لیڈر ہیں لیکن اب تک پنجاب میں جتنے بھی فیصلے ہوئے وہ عثمان بزدار کے علاوہ سب نے کیے۔ جو فیصلے پنجاب کے عثمان بزدار نے کرنے تھے وہی فیصلے عمران خان کر رہے ہیں۔اور وزیراعظم عمران خان شہر اقتدار سے اپنی تمام تر مصروفیات چھوڑ کر لاہورآئے اور انہوں نے وہ اعلانات کیے جو دراصل وزیر اعلی پنجاب کا کام ہوتا ہے۔

عمران خان نے کہا آئندہ 48گھنٹوں میں نئے بلدیاتی نظام کو حتمی شکل دی جائے گی۔ایل ڈی اے پلازہ سمیت جہاں بھی سرکاری ریکارڈ جلا اس کی تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی بنائی جائے گی۔ صوبے کے تمام بڑے منصوبوں کا آڈٹ کروایا جائے گا،وزراء کے لیے کوئی چھٹی نہیں ہے۔اس کے علاوہ صحت و انصاف کارڈ سمیت کئی ایسے فیصلے ہیں جو وزیر اعلی پنجاب کی بجائے عمران خان نے کیے ہیں۔