اب پاکستان کرائے پر لی ہوئی بندوق نہیں رہا

ہم اب وہی کریں گے جو ہمارے مفاد میں ہو گا،پاکستان نے امریکہ کی جنگ لڑتے ہوئے زیادہ نقصان اُٹھایا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کا امریکی اخبار کو انٹرویو

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین جمعہ دسمبر 10:57

اب پاکستان کرائے پر لی ہوئی بندوق نہیں رہا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 07 دسمبر 2018ء) : وزیراعظم پاکستان عمران خان کا کہنا ہے کہ پاکستان اب کرائے پر لی ہوئی بندوق نہیں رہا ، ہم نے امریکہ کی جنگ میں زیادہ نقصان اُٹھایا ہے اسی لیے اب ہم وہی کریں گے جو ہمارے مفاد میں بہتر ہو گا۔ امریکی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیراعظم پاکستان عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ برابری کی سطح پر باقاعدہ تعلقات چاہتا ہے۔

سپر پاور کے ساتھ اچھے تعلقات کون نہیں چاہے گا۔ واشنگٹن پوسٹ کو دئے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ نے پاکستان میں طالبان کی پناہ گاہوں کا الزام عائد کیا تھا لیکن میں جب حکومت میں آیا تو میں نے سکیورٹی فورسز سےاس معاملے پر مکمل بریفنگ لی اور وقتاً فوقتاً امریکہ سےکہا کہ بتائیں پاکستان میں پناہ گاہیں کہاں ہیں تاکہ ان علاقہ جات اور مبینہ پناہ گاہوں کو چیک کیا جا سکے۔

(جاری ہے)

لیکن پاکستان میں طالبان کی کوئی پناہ گاہیں نہیں ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ ٹویٹ سے متعلق ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ٹویٹر پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو جواب دینے کا مقصد ریکارڈ درست کرنا تھا۔ میں نے اپنے جواب میں لکھا تھا کہ امریکی صدر کو تاریخی حقائق پتہ ہونے چاہئیں ، انہوں نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ہرزہ سرائی کا سوشل میڈیا پر جواب ٹویٹر جنگ نہیں تھی۔

عمران خان نے پاک افغان تعلقات سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ پاک افغان سرحد کی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے جہاں سے دہشت گردوں کی آمدو رفت مشکل ہے۔ افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا سے متعلق سوال کے جواب میں عمران خان کا کہنا تھا کہ 1989ء میں جب سویت یونین افغانستان سے نکلا تو امریکہ نے پاکستان کو تنہا چھوڑ دیا تھا۔ ہم چاہتے ہیں کہ امریکہ افغانستان کے معاملے پر جلد بازی نہ کرے ، افغانستان میں پہلے حالات ٹھیک ہونے چاہئیں اس کے بعد ہی تعمیر نو کے لیے حسب ضرورت اقدامات کیے جائیں ۔ انٹرویو کے دوران عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں 27 لاکھ افغان مہاجرین اب بھی کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔