پاکستانی عوام کسی بھی صورت صہیونی ریاست کو تسلیم کرنے کے حق میں نہیں‘

مسلم امہ کے تمام ممالک فلسطینی عوام کے حقوق کے لیے مشترکہ آواز بلند کریں‘اقوام متحدہ اور عالمی ادارے مسئلہ فلسطین کے حل کیلئے سنجیدہ اقدام کریں‘کشمیر اور روہنگیا مسلمانوں کے حقوق کیلئے بھی عملی اقدامات کئے جائیں ملی یکجہتی کونسل کے زیر اہتمام ’’حمایت فلسطین کانفرنس‘‘ کا مشترکہ اعلامیہ

جمعرات دسمبر 22:52

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 13 دسمبر2018ء) پاکستان کی دینی و سیاسی جماعتوں کے نمائندوں و متعدد اسلامی ممالک کے سفارتی نمائندوں اور سول سوسائٹی کے اراکین نے مظلوم فلسطینیوں کے حق ریاست و حکومت کی بھرپور تائیداور صہیونی ریاست کے فلسطینی مسلمانوں کے خلاف جارحانہ اقدامات کی بھرپور مذمت کی ہے، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے اداروں سے اسرائیلی جارحانہ حربوں کا نوٹس لینے اور ان کے حوالہ سے ضروری قانونی اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ مطالبات ملی یکجہتی کونسل کے زیر اہتمام ’’حمایت فلسطین کانفرنس‘‘ کے مشترکہ اعلامیہ میں کئے گئے ہیں۔ کانفرنس سے چیئرمین پاکستان مسلم لیگ (ن) سینیٹر راجہ ظفر الحق ،صدر ملی یکجہتی کونسل پاکستان ڈاکٹر ابو الخیر محمد زبیر ، سیکرٹری جنرل ملی یکجہتی کونسل لیاقت بلوچ ، نائب سفیر اسلامی جمہوریہ ایران محمد سرخابی، سیاسی اتاشی سفارتخانہ جمہوریہ شام حشام حسن، سیاسی اتاشی سفارتخانہ ترکی حسین امراہ کرد ، قائمقام سفیر ریاست فلسطین حسنی محمد مصطفی ابو غوش، کلچرل کونسلر رائزنی اسلامی جمہوریہ ایران محمد رضا کاکا کے علاوہ علامہ امین شہیدی، علامہ راجہ ناصر عباس جعفری ، علامہ عارف حسین واحدی ، سربراہ تحریک جوانان پاکستان عبد اللہ گل ، مفتی گلزار احمد نعیمی، عظمت ممتاز ثاقب، سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی کشمیر راجہ فاضل حسین تبسم ، رضیت باللہ، شمس الرحمن سواتی، سیکرٹری جنرل فلسطین فائونڈیشن پاکستان صابر کربلائی ، شیعہ وفاق المدارس کے مرکزی راہنما ڈاکٹر علامہ محمد و دیگر نے خطاب کیا۔

(جاری ہے)

جملہ مقررین نے کہا ہے کہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے مسئلہ فلسطین کے حوالے سے متعدد مواقع پر اس عزم کا ارادہ کیا کہ برصغیر پاک و ہند کے مسلمان کبھی بھی اس غاصب ریاست کو قبول نہیں کریں گے اور پہلے اسرائیلی وزیر اعظم کے تار کے جواب میں آپ نے کہا تھا کہ ’’ دنیا کا ہر مسلمان مرد و عورت بیت المقدس پر صہیونی قبضے کو تسلیم کرنے کے بجائے موت کو ترجیح دے گے۔

‘‘انہوں نے کہا کہ کانفرنس کے شرکاء بانی پاکستان کے اس موقف کی تائید کرتے ہیں اور اس پر اپنے ایمانی جذبے کے ساتھ قائم ہیں ۔کانفرنس کے اختتام پر مشترکہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کہا گیا کہ بانیان پاکستان بالخصوص قائداعظم محمد علی جناح ، علامہ محمد اقبال ، مولانا محمد علی جوہر ، مولانا ظفر علی خان نیز دیگر کے ارشادات کی روشنی میں ہم مظلوم فلسطینیوں کے حقوق کی حمایت ہمیشہ جاری رکھیں گے۔

اجلاس بعض اہم افراد کی جانب سے غاصب صہیونی ریاست کے لیے ہمدردی کے جذبات کو بھی تشویش کی نگاہ سے دیکھتا ہے ۔ پاکستانی عوام کسی بھی صورت میں صہیونی ریاست کو تسلیم کرنے کے حق میں نہیں ہیں اور اس حوالے سے کی جانے والی ہر کاوش کو نظریہ پاکستان کے خلاف سمجھتے ہیں ۔اجلاس مسلم امہ کے تمام ممالک سے مطالبہ کرتا ہے کہ فلسطینی عوام کے حقوق کے لیے مشترکہ آواز بلند کریں اور وہ مسلمان ممالک جو اسرائیل کے ناجائز وجود کو تسلیم کر چکے ہیں سے مطالبہ کرتا ہے کہ اسرائیل سے سفارتی تعلقات منقطع کرکے فلسطینی ریاست کی بحالی کا مطالبہ کریں۔

ایک امت کی حیثیت سے ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم اپنے مظلوم فلسطینی بھائیوں کے مددگار اور معاون ہوں نہ کہ ان کے دشمنوں اور خون کے پیاسوں کے ساتھ محبت بڑھائیں۔ اجلاس واضح کرتا ہے کہ بیت المقدس فلسطین کا تاریخی دارالحکومت ہے اس کی اس حیثیت کے خلاف ہم ہر اقدام کی مذمت کرتے ہیں۔اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ اقوام متحدہ اور عالمی ادارے مسئلہ فلسطین کے حل کیلئے سنجیدہ اقدام کریں نیز کشمیر اور روہنگیا مسلمانوں کے حقوق کیلئے بھی عملی اقدامات کئے جائیں۔ اجلاس امریکہ کی جانب سے متعدد اسلامی ممالک کو مذہبی اور اقلیتوں کی آزادی کے حوالے سے بلیک لسٹ کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔