معروف موبائل ساز کمپنیوں کا پاکستان میں موبائل فون تیار کرنے کا فیصلہ

موبائل ساز کمپنی سام سنگ، نوکیا اور ہواوے نے پاکستان میں موبائل مینوفیکچرنگ کی خواہش کا اظہار کر دیا

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان ہفتہ فروری 16:13

معروف موبائل ساز کمپنیوں کا پاکستان میں موبائل فون تیار کرنے کا فیصلہ
لاہور (اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔02 فروری 2018ء) موبائل ساز کمپنیز سام سانگ، نوکیا اور ہواوئے نے پاکستان میں موبائل فون تیار کرنے کی خواہش ظاہر کر دی۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ موبائل ساز کمپنیز سام سانگ، نوکیا اور ہواوئے نے پاکستان میں موبائل کی مینیو فیکچرنگ شروع کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔اسی حوالے سے حکومت نے ایک نئی موبائل فون مینوفیکچرنگ پالیسی تیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

رپورٹس میں مزید بتایا گیا ہے کہ یہ موبائل ساز کمپنیاں چین کے مقابلے میں مزدورں کو ملنے والی کم اجرت دینے کی وجہ سے پاکستان میں موبائل فون بنانا چاہتی ہیں کیونکہ پاکستان کے مقابلے میں چین میں مزدوروں کی تنخواہ زیادہ ہوتی ہے۔تکنیکی افرادی قوت کے حوالے سے چین میں ایک غیر معمولی مزدور کی تنخواہ بھی ایک لاکھ 5ہزار ہوتی ہے جب کہ ایک ہنر مند اور ماہر مزدور کی تنخواہ 4 لاکھ 20ہزار ہوتی ہے جب کہ اس کے مقابلے میں پاکستان میں انتہائی محنتی اور ہنرمند مزدور کم معاوضے پر دستیاب ہوتے ہیں۔

(جاری ہے)

مزید بتایا گیا ہے کہ موبائل فون بنانے والی کمپنیاں قریباَ 60 ذیلی حصوں سے موبائل فون ڈیوائسز تیار کرتی ہیں اور ایک موبائل مینیوفیکچر پلانٹ پر 2 ارب روپے لاگت آتی ہے۔یہ سب پاکستان موبائل مینوفیکچررز اور وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے نمائندوں، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کام، پاکستان ٹیلی مواصلات اتھارٹی (پی ٹی اے) اور ایی ڈی بی کے درمیان 31 جنوری 2019 کو ہونے والی ملاقات میں بتایا گیا تھا۔

اجلاس میں مزید بتایا گیا کہ اس وقت پاکستان میں 23 کمپنیاں موبائل فون بنا رہی ہیں جس میں 15آزاد جموں کشمیر  میں کام کر رہی ہیں کیونکہ وہاں صنعتوں کو ٹیکس کی چھوٹ حاصل ہے۔ایف بی آر کے ایک نمائندے نے کہا کہ حکومت نے سی کے ڈی اور سی بی یو فارم میں سی کے ڈی پر مبنی مینوفیکچررز اور موبائل آلات کی درآمد کو فروغ دینے میں ترمیم کی ہے. پی ٹی اے ڈائریکٹر نعمان خالد نے اجلاس کے شرکاء کو بتایا کہ موبائل فون کی بین الاقوامی رجسٹریشن کی وجہ سے مقامی موبائل ڈیوائسز کی مینیو فیکچرنگ میں اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے پروڈکشن اور صنعتی وزارتوں سے سفارش کی ہے کہ وہ متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر موبائل آلات کی مقامی سطح پر مینوفیکچرنگ کو فروغ دینے کے لئے ایک پالیسی بنائیں۔ڈی ایم جی انچارج پالیسی عاصم ایاز نے بتایا کہ پالیسی سازی ٹیم اس پر کام کر رہی ہے اور امید ہے کہ جلد ہی آٹوموبائل سیکٹر کے طور پر پاکستان کو کامیابی ملے گی.تفصیلی بحث کے بعد اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ای ڈی بی مقامی مینوفیکچرز کی موبائل ڈیوائسز کی تیاری کی پالیسی کی حوصلہ افزائی کرے گی اور اس سلسلے میں انڈسٹری کی جانب سے جلد ہی ایک پرپوزل بھی جمع کروایا جائے گا۔