پاکستان تحریک انصاف کے صحت کارڈ کی تصویر سوشل میڈیا پر زیر بحث

کیا تحریک انصاف نے پیپلز پارٹی کی تصویر چُرائی ؟ بختاور بھٹو زرداری نے بھی تنقیدی وار کر ڈالا

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین پیر فروری 15:12

پاکستان تحریک انصاف کے صحت کارڈ کی تصویر سوشل میڈیا پر زیر بحث
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 11 فروری 2019ء) : وزیراعظم عمران خان نے رواں ماہ 4 فروری کو صحت انصاف کارڈ کا اجرا کیا جس کے تحت پنجاب، اسلام آباد اور فاٹا میں لاکھوں غریب خاندانوں کو مفت طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ صحت کارڈ کے اجرا پر پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو خوب سراہا گیا اور سوشل میڈیا پر بھی حکومت کو خوب پذیرائی موصول ہوئی۔

تاہم اب پاکستان تحریک انصاف کا صحت کارڈ سوشل میڈیا پر ایک مرتبہ پھر موضوع بحث بن گیا ہے اور یہ بحث صحت کارڈ اسکیم کے جاری کیے جانے والے اشتہار کی ہے جس نے سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث کا آغاز کر دیا ہے۔ بحث یہ ہے کہ کیا صحت کارڈ اسکیم کے اشتہار کے لیے پاکستان تحریک انصاف نے پاکستان پیپلز پارٹی کی تصویر چوری کی ہے؟ اس تمام بحث کا آغاز مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر پر فتح نامی صارف کے ٹویٹ کے بعد ہوا جنہوں نے اپنے ٹویٹ میں دو تصاویر شئیر کیں۔

(جاری ہے)

پہلی تصویر میں نظر آنی والی خاتون نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کارڈ ہاتھ میں پکڑ رکھا ہے جبکہ دوسری تصویر میں خاتون وہی ہیں لیکن اس کے ہاتھ میں صحت انصاف کارڈ ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ صحت انصاف کارڈ والی تصویر کو وفاقی حکومت نے اشتہار کے طور پر اخبارات میں بھی شائع کروایا۔ اور حیرت انگیز طور پر یہ دونوں تصاویر ہر لحاظ سے ایک جیسی ہیں۔

ان میں ذرہ بھر بھی فرق نہیں ہے ، اگر کوئی فرق ہے تو صرف یہ کہ کارڈز مختلف ہیں۔ فتح نے صحت انصاف کارڈ کی اس تصویر کو فوٹو شاپ شدہ تصویر قرار دیا۔ انہوں نے اپنے ٹویٹر پیغام میں لکھا کہ یہ فوٹو شاپ فیصل جاوید خان کی کمپنی نے کیا ہے۔
یہ تصویر ٹویٹر پر وائرل ہوئی تو پاکستان پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری کی ہمشیرہ بختاور بھٹو سے بھی تبصرہ کیے بغیر رہا نہ گیا اور انہوں نے موجودہ حکومت پر تنقیدی وار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت صرف انڈے ہی ڈیلیور کر رہی ہے اور وہ بھی سارے خراب اور سڑے ہوئے۔

ٹویٹر پر اس تصویر کے فوٹو شاپ ہونے یا نہ ہونے کی اس نئی بحث نے دلچسپ صورتحال پیدا کر دی ہے۔ کچھ صارفین کا ماننا ہے کہ صحت انصاف کارڈ والی تصویر کو فوٹو شاپ کر کے بنایا گیا ہے جبکہ کچھ صارفین نے بے نظیر انکم سپورٹ والی تصویر کو فوٹو شاپ شدہ قرار دیا۔ ایک صارف نے تو پاکستان تحریک انصاف کو شرم دلاتے ہوئے اسے فوٹو شاپ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کا نام بھی دے دیا۔

کچھ صارفین کا کہنا ہے کہ چونکہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا آغاز جولائی 2008ء میں پیپلز پارٹی کی حکومت نے کیا تھا، لہٰذا بے نظیر انکم سپورٹ والی تصویر ہی اصل تصویر ہے جسے فوٹو شاپ کر کے موجودہ حکومت نے اپنے اشتہار میں استعمال کیا ہے۔ یاد رہے کہ بے نظیر انکم سپورٹ کا مقصد خواتین کو غربت کی لکیر سے اوپر لانا اور ان کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے میں مدد دینا تھا۔ جبکہ حال ہی میں پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے 04 فروری 2018ء کو جاری کیے جانے والے صحت انصاف کارڈ کا مقصد نادار اور مستحق افراد کا مفت علاج ممکن بنانا ہے۔