علیم خان کی ضمانت کے کیس میں آف شور کمپنی کا ریکارڈ طلب ،سماعت 6مئی تک ملتوی

منگل اپریل 19:02

علیم خان کی ضمانت کے کیس میں آف شور کمپنی کا ریکارڈ طلب ،سماعت 6مئی تک ..
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 23 اپریل2019ء) لاہور ہائیکورٹ نے تحریک انصاف کے رہنما عبد العلیم خان کی ضمانت کے کیس میں آف شور کمپنی کا ریکارڈ طلب کرتے ہوئے سماعت 6مئی تک ملتوی کر دی ۔لاہو رہائیکورٹ کے جسٹس شہزاد ملک کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔ فاضل بینچ نے علیم خان کے وکیل سے استفسار کیا کہ نیب نے کس بنیاد پر عبدالعلیم کے خلاف انکوائری شروع کی۔

جس پر انہوں نے جواب دیا کہ نیب نے آمدن سے زائد اثاثے اور آف شو کمپنیز کا الزام لگا کر انکوائری شروع کی۔فاضل عدالت نے ریمارکس دئیے کہ نیب نے الزام لگایا ہے آپ نے بطور ممبر پنجاب اسمبلی اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرکے اثاثے بنائے ۔آپ یہ بتائیں کہ کس دورانیے میں ممبر صوبائی اسمبلی رہے ہیں۔

(جاری ہے)

علیم خان کے وکیل نے جواب دیا کہ 2003 سے 2007 تک عبدالعلیم خان وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی رہے۔

2000سے 2003تک سیکرٹری کوآپریٹو سوسائٹی کا عہدے پاس تھا۔علیم اینڈ عامر نامی کمپنی نے سیل ڈیڈ کے تحت 739 کینال اراضی خریدی۔630 کینال اراضی کا بیانہ دیا گیا۔ علیم خان کے موقف اپنایا کہ ان کے موکل جب تک آئی ٹی کے شعبے کی وزارت میں رہے ان کے خلاف کرپشن کا کوئی سکینڈل سامنے نہیں۔ 10370 کینال اراضی کے لیے 367 ملین کی رقم ادا کی۔نیب کے پاس الزامات کے کوئی ثبوت نہیں ۔علیم خان کے وکیل کے دلائل جاری تھے کے عدالت نے آف شور کمپنی کا ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت 6 مئی تک ملتوی کردی ۔