جنوبی پنجاب صوبے کی اپنی الگ ہائیکورٹ اور اسمبلی ہو گی،صوبائی اسمبلی میں 120سیٹیں ہوں گی

جنوبی پنجاب صوبے میں 75سیٹیوں پر انتخاب ہو گا جبکہ 22نشستیں خواتین کے لیے اور 3 اقلیتوں کے لیے مخصوص ہوں گی،وزیرخارجہ

Usman Khadim Kamboh عثمان خادم کمبوہ بدھ مئی 21:15

جنوبی پنجاب صوبے کی اپنی الگ ہائیکورٹ اور اسمبلی ہو گی،صوبائی اسمبلی ..
ملتان(اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔15مئی2019ء) وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ جنوبی پنجاب صوبے کی اپنی الگ ہائیکورٹ اور اسمبلی ہو گی۔ انہوں نے ملتان میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی پنجاب صوبے کی قرارداد منطور ہو چکی ہے اب اس حوالے سے آئین سازی کی جائے گی اور آئین کی مختلف شقوں میں ترامیم کی جائیں گی جس کے بعد جنوبی پنجاب صوبہ بن سکے گا۔

شاہ محمود قریشی نے بتایا ہے کہ نئے صوبے کی اسمبلی میں آبادی کے حساب سے سیٹیں رکھی جائیں گی جن کی تعداد 120ہو گی جن میں سے 75سیٹیوں پر انتخابات ہوں گے جبکہ 22نشستیں خواتین کے لیے اور 3سیٹیں اقلیتوں کے لیے مخصوص ہوں گی۔ اس کے بعد پنجاب اسمبلی مین نشستوں کی تعداد کم ہو کر 251رہ جائے گی۔ شاہ محمود قریشی نے بتیا کہ نیا صوبہ بنانے کے لیے 2رہائی اکثریت چاہیے جو کہ پاکستان تحریک انصاف کے پاس نہیں ہے اس لیے ہم تمام جماعتوں کے پاس جائیں گے۔

(جاری ہے)

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہم ن لیگ کے پاس بھی جائیں گے جس پر ردِ عمل دیتے ہوئے ،مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال نے کہا ہے کہ شاہ محمود قریشی عوام کو بیوقوف بننا بند کر دیں۔ یاد رہے کہ پیر کے روز قومی اسمبلی میں جنوبی پنجاب صوبہ بنائے جانے کی قرار داد پیش کی گئی تھی جسے پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان پیپلز پارٹی نے ووٹ دیا لیکن مسلم لیگ ن نے اس کی مخالفت کی تاہم یہ قرار داد اکثریتِ رائے سے منطور ہو گئی اور اب اس نئے صوبے کے حوالے سے قانون سازی کی جا رہی ہے۔وزیر خارجہ نے یہ بھی بتایا کہ جنوبی پنجاب صوبے کی ہائی کورٹ کے مختلف علاقوں میں بینچز بھی بنائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بہالپور کا پینچ بھی پلتان ہائی کورٹ کے ماتحت آ جائے گا۔