لوک سبھا الیکشن میں راہول گاندھی کو بڑا جھٹکا لگ گیا

راہول گاندھی "کیونکہ ساس بھی کبھی بہو تھی" کی تلسی (سمرتی ایرانی) سے شکست کے قریب پہنچ گئے

جمعرات مئی 20:42

نئی دہلی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 23 مئی2019ء) بھارت میں ہونے والیانتخابات کے نتائج آنا شروع ہو گئے ہیں۔ جس میں حکمران جماعت بی جے پی مسلسل کامیابیاں سمیٹتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ انڈین نیشنل کانگریس کے راہول گاندھی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔اب تک سامنے آنے والے نتائج سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ نریندر مودی کی جماعت اگلے پانچ سال بھارت پر حکومت کرے گی۔

میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ لوک سبھا الیکشن میں راہول گاندھی کو بڑا جھٹکا لگ گیا۔ راہول گاندھی "کیونکہ ساس بھی کبھی بہو تھی" کی تلسی (سمرتی ایرانی) سے شکست کے قریب پہنچ گئے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی ) کی رہنما سمرتی ایرانی امیٹھی کی نشست پر صبح 11 بجے تک کی گئی ووٹوں کی گنتی کے مطابق 2500 ووٹوں کے ساتھ آگے ہیں۔

(جاری ہے)

بھارتی میڈیا کے مطابق لوک سبھا کی 542 نشستوں میں سے 246 نشستوں کی ووٹوں کی گنتی مکمل ہو چکی ہے۔

ابتدائی نتائج کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی کا اتحاد نیشنل ڈیموکریٹک الائنس 164 نشستوں سے آگے ہے۔کانگریس کا اتحاد یونائیٹڈ پروگریسو الائنس 51 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے،جب کہ دیگر جماعتوں کو اب تک 32 نشستیں ملی ہیں۔اب تک کے نتائج کے مطابق راہول گاندھی کیرالہ کی نشست پر آگے ہیں۔گاندھی نگر کی نشست پر بی جیپی کے سربراہ امیت شاہ اور لکھنوسے راج ناتھ سنگھ کو برتری حاصل ہے۔

جب کہ گرداس پور سے بی جے پی کے امیدوار اور اداکار سنی دیول کو برتری حاصل ہے۔ بھارتی انتخابات کے تحت 519 نشستوں کے سرکاری نتائج آ گئے ہیں۔ بھارتی الیکشن کمیشن کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) 283 سیٹوں کے ساتھ پہلے نمبر پر آ گئی ہے۔ جبکہ راہول گاندھی کی انڈین نیشنل کانگریس 51 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اب تک موصول ہونے والے نتائج دیکھ کر یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہبھارتی عوام نے مودی سرکار کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے اور مودی کو جتوا کر اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔ قوی امکان ہے کہ بھارت میں اگلی حکومت بھی نریندر مودی کی ہی ہو گی۔