Live Updates

بھارت کی موجودہ قیادت مذاکرات کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتی

پاکستان کی پوزیشن عالمی سطح پر سب کو معلوم ہے ہم نے ہمیشہ امن کی بات کی ہے، شاہ محمود قریشی

Sajjad Qadir سجاد قادر جمعہ جون 06:57

بھارت کی موجودہ قیادت مذاکرات کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتی
لاہور ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 جون2019ء) پاکستان اور بھارت مل کر بیٹھیں گے یہ تو اب خواب ہی معلوم ہوتا ہے۔پاکستان جتنا بھی امن کی بات کرتا ہے بھارت اتنا ہی دور بھاگتا ہے۔صرف باتیں ہی نہیں بلکہ پاکستان نے بھارتی ہوا باز ابھی نندن کو واپس بھیج کر عملی طور پر بھی جذبہ خیر سگالی کا مظاہرہ کیا مگر ازلی بزدل اور مکار بھارت کو پھر بھی خطے کے امن کی پرواہ نہیں۔

موجودہ پاکستانی حکومت بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات کی خواہاں ہے مگر مودی دوبارہ الیکشن جیتنے کے بعد پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات بناتا نظر نہیں آتا۔اگرچہ مودی کا امن کی طرف جھکاﺅاور پاکستان کے ساتھ بات چیت کرنے کی خبریں بھی سنائی دے رہی ہیں مگر پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اس حوالے سے کچھ مثبت امید نہیں رکھتے۔

(جاری ہے)

نجی ٹی وی چینل کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا موقف ہر باشعور ملک اور طبقے نے سمجھ لیا ہے جب کہ بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر بھارتی وزیراعظم ہچکچاہٹ کا شکار نظر آئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے مودی کی کامیابی پر مبارکباد دی اور خط لکھا جو ایک روایت ہے، پاکستان نے جذبہ خیر سگالی کے تحت بھارت کو خط لکھا جس کا جواب آیا۔ان کا کہنا تھا کہ خطے میں ترقی کرنے اور غربت کے خاتمے کے لیے امن ضروری ہے لیکن تالی ہمیشہ دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے، بھارت کی موجودہ قیادت مذاکرات کے لیے تیار دکھائی نہیں دیتی۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ بھارت میں انتخابات کے بعد نئی حکومت آئی ہے لیکن بھارت ابھی تک الیکشن کے ماحول سے باہر نہیں نکل پایا۔پاکستان نے ہمیشہ امن کی بات کی ہے، شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں جو ماحول دیکھا اس سے نہیں لگتا کہ بھارت امن کی جانب قدم اٹھانے کے لیے تیار ہے۔شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ برطانیہ کے وزیرخارجہ کی دعوت پر لندن گیا تھا، برطانیہ نے پاکستان کے تعلقات کو جو اہمیت دی اس پر اطمینان ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف پر گفتگو جاری ہے اور اس میں برطانیہ کا کردار مثبت تھا۔ان کا کہنا تھا کہ منی لانڈرنگ کی روک تھام موجودہ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے جب کہ حوالگی ملزمان سے متعلق معاہدے پر برطانیہ سے بات چیت جاری ہے۔

ڈیجیٹل پاکستان کی بنیاد سے متعلق تازہ ترین معلومات