ترقی پذیر ممالک میں طبی فوائد رکھنے والے پودے سماجی ، معاشرتی ، روحانی اور طبی استعمال کے طور پر دیہاتی اور قبائلی علاقہ جات کی زندگیوں میں نہایت اہم کردار ادا کر رہے ہیں، طبی ماہرین

بدھ جولائی 22:32

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 17 جولائی2019ء) ترقی پذیر ممالک میں طبی فوائد رکھنے والے پودے سماجی ، معاشرتی ، روحانی اور طبی استعمال کے طور پر دیہاتی اور قبائلی علاقہ جات کی زندگیوں میںنہایت اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ترقی پذیر اور ترقی یافتہ ممالک دونوں ہی میں طبی فوائد رکھنے والے پودوں اور خوشبودار پودوں کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے۔

طبی پودوں کا زیادہ تر خام مال جنگلات سے حاصل کیا جاتا ہے اور کچھ طبی پودوں کی کاشت بھی کی جاتی ہے۔ جنگل کی کٹائی، قدرتی وسائل کا استحصال ، گھاس کے میدانوں کی زیادہ چرائی اور قدرتی طور پر گھاس اگنے والی زمین کی زرعی زمین میں تبدیلی طبی پودوں کی قلت کا باعث بنی ہے۔ پاکستان میں تقریبا چھ ہزار پودوں کی اقسام رپورٹ کی گئی ہیں جن میں سے 200 3 اقسام یونانی ، ایلوپیتھک اور ہومیو پیتھک دوائوں کی تیاری میں طبی فوائد کے لئے استعمال ہورہی ہیںجبکہ 300اقسام روایتی دوائوں کی تیاری میں استعمال کی جارہی ہیں۔

(جاری ہے)

تاہم کچھ پودں کی و کاشتکاری صلاحیت استحصال کا شکار ہے اور تقریبا 90% طبی فوائد رکھنے والی جڑی بوٹیاں درآمد کی جاتی ہیں۔طبی جڑی بوٹیوں کی تجارت حجم اور برآمد کے حساب سے بڑھتی جا رہی ہے۔ طبی جڑی بوٹیوں کی عالمی تجارت کااندازہ800 ملین ڈالر سالانہ لگایا گیا ہے۔ چین 120,000/- ٹن سالانہ جبکہ بھارت 32000/- ٹن سالانہ برآمدات کررہا ہے جس کی بناء پر دونوں ممالک عالمی مارکیٹ میں اپنا تسلط قائم کئے ہوئے ہیں۔

پاکستان طبی جڑی بوٹیوں کی درآمدات پر 31.0 ملین ڈالر خرچ کر رہا ہے جبکہ طبی جڑی بوٹیوں کی برآمدات صرف 6.0 ملین ڈالر ہے جو کہ انتہائی عدم توازن کی جانب اشارہ ہے ۔ضرورت اس بات کی ہے جڑی بوٹیوں کی ملکی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے اقدامات کئے جائیں۔ طبی فوائد رکھنے والے پودے اور خوشبو دار پودے بڑی فصلوں کا متبادل تو کسی طور پر ثابت نہیں ہو سکتے لیکن ان کے طبی فوائد ، قدرتی وسائل اور معاشی حجم کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کی پیداوار کو پاکستان میں بڑھانے کی ضرورت ہے ۔

اس کے لئے عالمی ادارہ صحت(WHO) کے رہنما اصولوں کا مدنظر رکھتے ہوئے اس پر عمل در آمد کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان کا صوبہ بلوچستان مختلف اقسام کی جڑی بوٹیوں کا آبائی وطن ہے۔ بلوچستان میں مختلف جڑی بوٹیوں پائی جاتی ہے جو کہ مقامی سطح پر فروخت کر دی جاتی ہیں۔ مختلف جڑی بوٹیوں کے طبی فوائد کے بارے میں لوگ بہت کم علم رکھتے ہیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ آگاہی مہم کے ذریعے ان طبی جڑی بوٹیوں کی کاشت پر توجہ دلائی جائے تا کہ ان جڑی بوٹیوں کے فوائد کا حصول ممکن ہو ۔

انٹرنیشنل ٹریڈ سینٹر نے سب سے زیادہ مشہور اور زیادہ تجارت کی جانے والی طبی جڑی بوٹیوں کی فہرست جاری کی ہے جن میں باصل، بے، ڈل، مارجورم، پودینہ، اوریگینو، پارسلے، سیج، سیوری، ٹیراگون اور تھائم(جنگلی پودینہ) شامل ہیں۔ ماحولیاتی صورتحال طبی جڑی بوٹیوں اور خوشبودار پودوں کی کاشت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ طبی جڑی بوٹیوں اور خوشبودار پودوں کا باغ: کے سلسلے میں پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل کا بلوچستان کوئٹہ میں قائم ادارہ (بلوچستان زرعی تحقیقی و ترقیاتی ادارہ )طبی جڑی بوٹیوں اور خوشبودار پودوں کی کاشت کے متعلق اپنی تحقیقاتی جاری رکھے ہوئے ہے تا کہ ان طبی فوائد رکھنے والی جڑی بوٹیوں کی پاکستان میں تجارتی بنیادوں پر کاشت کا قابل عمل بنایا جا سکے اور ان جڑی بوٹیوں کو مقامی اور بین الاقوامی مارکیٹ میں فروخت کے لئے پیش کیا جا سکے۔

طبی جڑی بوٹیوں اور خوشبودار پودوں کا باغ پی ے آر سی کے بلوچستان کوئٹہ میں قائم (بلوچستان زرعی تحقیقی و ترقیاتی ادارہ) نے قائم کیا ہے جہاں پر ان جڑی بوٹیوں پر تحقیق اور ان کے بیج کی تیاری کے لئے تجرباتی کھیت تیار کئے گئے ہیں۔ دستیاب جرم پلازم کو چار حصوں میں تقسم کیا گیا ہے جن میں کیولینری جڑی بوٹیاں، طبی جڑی بوٹیاں، خوشبودار جڑی بوٹیاں اور نباتاتی چائے شامل ہیں۔

زیادہ پیداوار دینے والے جینوٹائپ کا انتخاب میں بلوچستان میں(جیرا، کلونجی اور سونف) ان جڑی بوٹیوں کی پیداواری صلاحیت اور نشونما پانے والے مختلف طریقوں کے ذریعے ان جڑی بوٹیوںکی تشخیص کی گئی۔ پیداواری صلاحیت کے بنیاد پر یہ پودے بلوچستان کے پہاڑی اور میدانی دونوں علاقوں میں کاشت کئے جاسکتے ہیں۔تحقیق سے یہ بھی ثابت ہو ا کہ یہ پودے ، پانی دی جانے دوسری فصلوں کے مقابلے میں کم پانی میں بھی اگائے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

جیرا کم دورانیہ کی ایک بارشی فصل ہے جس کی مارکیٹ میں بہت زیادہ مانگ ہے۔ کسان معیاری جیرا کی پیداوار کے ذریعے زیادہ نفع کما سکتے ہیں۔ بارشی صورتحال میں جیرا کے بیج کی مقدار 500سے 600کلوگرام فی ہیکڑ ہے۔ سونف کے بیج کی مقدار 1500سے 2000 کلو گرام فی ہیکٹر ہے ۔کلونجی کے بیج کی مقدار 800سے 1000 کلو گرام فی ہیکٹر ہے۔ کیولینری جڑی بوٹیاں تھائم ، اوریگینو، روزمیری، مارجورم (ناز بو)اور ٹیراگون دنیا میں پائے جانے والی عام کیولینری جڑی بوٹیاںہیں اور یہ پاکستان کی مختلف مارکیٹس میں بھی دستیاب ہیں۔

مختلف تجربات اور نتائج کے ذریعے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ ان جڑی بوٹیوں کی پیداواری صلاحیت انتہائی حوصلہ افزاء ہے۔ یہ جڑی بوٹیاں بلوچستان کے پہاڑی علاقوں میں کامیابی سے کاشت کی جا سکتی ہیں۔ موسم سرما کی شروعات سے قبل دو سے تین دفعہ ان کے پتے کاٹے جا سکتے ہیں۔ کیولینری جڑی بوٹیاںکی مارکیٹنگکوئٹہ میں قائم پی اے آر سی کا (بلوچستان زرعی تحقیقی و ترقیاتی ادارہ ) کیولنری جڑی بوٹیوں کی مارکیٹنگ کے لئے PATCO, PARC کے تعاون سے کام کر رہا ہے۔

تاہم ضرورت اس بات کی ہے کہ مناسب پیداوار ، پیکنگ اور لیبلنگ کے ذریعے بڑی مارکیٹ میں فروخت کے لئے پیش کی جائیںجڑی بوٹیوں سے تیار شدہ چائیجڑی بوٹیوں سے تیار شدہ چائے آرام اور سکون حاصل کرنے کے لئے انتہائی موزوں و مشہور ہے۔ چائے میں جڑی بوٹیوں کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔ انگریزی تھائم اور جرمن کیمومائل (گل بابونہ) دنیا کے مختلف حصوں میں استعمال کی جانے والی جڑی بوٹیاں ہیں جو کہ چائے میں عام طور پر استعمال کی جا سکتی ہیں۔

جرمن کیمومائل (گل بابونہ) چائے سے قوت مدافعت میں اضافہ، اعصابی سکون اور بدہضمی سے نجات جیسے فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ تھائم چائے گالے کی خرابی کی صورت میں غرارے کے لئے استعمال کی جا سکتی ہے نیز متاثرہ مسوڑوں کے لئے بھی مفید ہے۔ اس کے علاوہ تھائم چائے نزلہ زکام، سر درداور کھانسی میں استعمال کے لئے بھی فائدہ مند ہے۔ پی اے آر سی کے بلوچستان زرعی تحقیقی ادارے میں جرمن کیمومائل کے پیداواری تجربات انتہائی حوصلہ افزاء ہیں نیز اس کی مزید تحقیق پر کام جاری ہے۔

اصلی تیل اور خوشبودار جڑی بوٹیاںجڑی بوٹیوں سے حاصل ہونے والے تیل کو مختلف طریقوں سے استعمال کیا جاتا ہے۔ جڑی بوٹیوں سے حاصل شدہ تیل عام طور پر قدرتی پرفیوم (خوشبو) اور جسما نی مالش کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ اصلی تیل کے حصول کے لئے ، انگریزی لیونڈر، پودینہ، سیج، مارجورم، لیمن گراس ، روز میری بہتری جڑی بوٹیاں ہیں۔ کچھ خوشبودار جڑی بوٹیوں کی عمل کشید کے ذریعے تیل کے حصول کے لئے تجربات کئے گئے جس کے حوصلہ افزاء نتائج نکلے ہیں اور یہ ثابت ہو ا ہے کہ یہ جڑی بوٹیاں تیل نکالنے کے لئے بھی کاشت کی جا سکتی ہیں۔

طبی استعمال کی جڑی بوٹیاںتھائم ، فرینچ لیونڈر، جرمن کیمومائل، مارجورم، سونف، انیس، یارو، روز میری، لیموں کا مرہم، ملک تھسل، کمفرے اور اوریگینو ایسی معروف جڑی بوٹیاں ہیں جو کہ یونانی اور ہومیو پیتھک دوائوں کی تیاری میں استعمال کی جاتی ہیں۔خام مال کا معیار اور پودے کی صحیح قسم کا انتخاب یہ دو ایسی چیزیں ہیں جو جڑی بوٹیوں کے ذریعے طبی استعمال کی معیاری دوائوں کی تیاری میں ضروری ہیں۔ طبی استعمال کی یہ جڑی بوٹیاں بلوچستان میں کامیابی سے کاشت کی جا سکتی ہیں۔ I۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔طارق ورک