Live Updates

بنوں،پی ٹی آئی کی تمام ضلعی قیادت اور کارکن حلقہ پی کے 90کے نتائج کے خلاف ایک پلیٹ فارم پراکٹھا ہو گئے

ہمیں جیتی ہوئی نشست سے ایک سازش اور ملی بھگت سے محروم کر دیا گیاہے ،ملک عدنان خان ٍ اگر ہمیں انصاف فراہم نہ کیا گیا تو کارکنوں سمیت اپنے جائز حق کے لئے لانگ مارچ کرکے سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن کے سامنے احتجاجی کیمپ لگا کر دھرنا دیں گے ،پی ٹی آئی کے سابق امیدوار حلقہ پی کے 90 کی پریس کانفرنس

جمعہ ستمبر 23:33

بنوں(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 20 ستمبر2019ء) پی ٹی ائی کی تمام ضلعی قیادت اور کارکن حلقہ پی کے 90کے نتائج کے خلاف ایک پلیٹ فارم پراکٹھا ہو گئے پی ٹی ئی کے سابقہ امیدوار حلقہ پی کے 90 ملک عدنان خان نے سینکڑوں ساتھیوں سمیت بنوں پریس کلب میں پر ہجوم پریس کانفرنس میں دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں جیتی ہوئی نشست سے ایک سازش اور ملی بھگت سے محروم کر دیا گیاہے جس کے خلاف ہم الیکشن کمیشن ، الیکشن ٹریبونل اور اب سپریم کورٹ جا چکے ہیں اور اگر ہمیں انصاف فراہم نہ کیا گیا تو اگر مولانا فضل الرحمن اپنے غیر ائینی مطالبات کے لئے اسلام اباد لانگ مارچ کا شوق ہے تو ہم پی ٹی ائی کے ہزاروں کارکنوں سمیت اپنے جائز حق کے لئے لانگ مارچ کرکے سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن کے سامنے احتجاجی کیمپ لگا کر دھرنا دیں گے اور اس وقت تک دھرنا دیں گے جب تک ہمیں انصاف فراہم نہیں کیا جاتا اس موقع پر سابق ڈسٹرکٹ کونسلرز ملک شکیل خان ، حلیم زادہ خان وزیر ، ملک شیر بہادر خان ،ملک سلیمان غزنوی ، آصف الرحمن سمیت تمام ضلعی قیادت ان کے ہمراہ موجودتھی انہوں نے کہا کہ 2018کے انتخابات میں بنوں کے این اے 35 سے وزیراعظم عمران خان اور میرا بطور امیدوار ہمارا مقابلہ سابقہ وزیر اعلیٰ اکرم خان درانی کے ساتھ تھا جس میں اس نے پہلے غیر سرکاری نتیجے میں معمولی فرق سے ہرا یا جبکہ حلقہ پی کے 90 سے سب سے زیادہ ووٹ دیکر کامیاب کرایاتعجب کی بات یہ ہے کہ اس نشست پر ہم 28 ووٹوں سے ہار گئے اپنی ناکامی کے سلسلے میں ہم نے ڈی آر او کو سیکشن 95کے تحت پورا حلقہ کھولنے کی درخواست دی جس پر انہوں نے ابتدا میں چند پولنگ سٹیشن کی دوبارہ گنتی کرائی جس میں ہم نے 31ووٹ سے لیڈ حاصل کی اور ہمیں فارم 47بھی جاری کیا گیا اس پر نو پولنگ سٹیشن میں بازار احمد خان پولنگ سٹیشن میں فارم 45پر مخالف امیدوار کو جو ریزلٹ دیا گیا تھا وہ ایک تھا اور جب پولنگ سٹیشن کھولا گیا اور گنتی کی گئی تو وہ ریزلٹ ایا جو ہمیں دیا گیا تھا اورنتائج کے مطابق ملک عدنان خان کے کل ووٹ 32731اور اکرم خان درانی کے 32700تھے لیکن اس دوران مخالف فریق نے گنتی پر حکم امتناعی لے آیا اس دوران جن ٹیچرز فرزانہ ظفر اورزرین تاج نے نتائیج کو تبدیل کئے تھے ا س کے خلاف خود عدالت نے کاروائی کے احکامات جاری کئے لیکن ان کے خلاف ابھی تک کوئی کاروائی نہیں کی گئی ہے بعد ازاں آر او نے مخالف فریق کے سرکاری ووٹ شمار کئے حالانکہ قانونی طور پر اس وقت آر او کی قانونی حیثیت ختم ہو چکی تھی اور اس کو 28ووٹوں کی برتری دی اور ہمارے سرکاری 31ووٹ منسوخ بھی کر دئے جس کے خلاف قانون کے مطابق ہم اسلام اباد ہائی کورٹ میں اپیل ائر کی اور ہائی کورٹ کی ہدایات کی روشنی میں ہم الیکشن کمشن گئے ایک ماہ تک پیشیاں کرتے رہے لیکن انہوں نے میر ے مخالف امیدوار کے ساتھ ملی بھگت کے نتیجے میں ہماری درخواست یہ کہہ کر خارج کی کہ ہم اپ کا کیس نہیں سن سکتے اپ الیکشن ٹریبونل جائیں لیکن جب ہم الیکشن ٹریبونل گئے تو انہوں نے ہماری درخواست ٹیکنیکل وجوہات کی بنا پر خارج کر دی حالانکہ وہ ہمیں کیس مقررہ تاریخ میں جمع کرنے کی رسید بھی دے چکے ہیں اور وہ مخالف امیدوار سے جواب بھی طلب کر چکے ہیں انہوں نے کہا کہ اس نا انصافی کے خلاف ہم نے سپریم میں رجوع کر لیا ہے اور توقع ہے کہ سپریم کورٹ اف پاکستان انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے ہمیں پورے حلقے کی دوباری گنتی کے احکامات جاری کریں گے ہماری جیتی ہوئی نشست جس سے ہمیں سازش اور نا انصافی سے محروم کیا گیا واپس دلائے انہوں نے کہا کہ اگر ہمیں حق سے محروم رکھا گیا تو جب مولانا فضل الرحمن اسلام اباد لانگ مارچ کر سکتے ہیں تو ہم اپنے حق کے لئے لانگ مارچ کریں گے اور ہزاروں کارکنوں کے ہمرا ہ الیکشن کمیشن افس کے سامنے احتجاجی کیمپ لگا کر دھرنا دیں گے جو اس وقت تک جاری رہے گا جب تک ہمیں انصاف فراہم نہیںکیا جاتا
مولانا فضل الرحمان کا آزادی مارچ کا اعلان سے متعلق تازہ ترین معلومات