پاکستان علماء کونسل کسی مارچ یا دھرنے میں شریک نہیں ہو گی، ملک میں انتشار اور فساد پھیلانے کی کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے،طاہر محمود اشرفی

اتوار اکتوبر 17:40

پاکستان علماء کونسل کسی مارچ یا دھرنے میں شریک نہیں ہو گی، ملک میں انتشار ..
لاہور۔13 اکتوبر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 13 اکتوبر2019ء) پاکستان علماء کونسل کسی مارچ یا دھرنے میں شریک نہیں ہو گی، ملک میں انتشار اور فساد پھیلانے کی کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے، جمعتہ المبارک کو مظلوم کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کے طور پر منایا جائے گا، ماہ ربیع الاول و ثانی ملک بھر میں ماہ رحمت للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کے طور پر منائیں گے ، 23 فروری کو یوم تاسیس اور 29 مارچ کو پانچویں عالمی پیغام اسلام کانفرنس کنونشن سینٹر اسلام آباد میں ہو گی۔

وزیر اعظم اور آرمی چیف کی طرف سے مسلم ممالک کے درمیان مصالحانہ کوششوں کا خیر مقدم کرتے ہیں، حکومت کے آئین، قانون اور شریعت کے دائرے میں تمام اقدامات کی حمایت کریں گے، غیر آئینی ، غیر قانونی اور غیر شرعی امو رمیں محاسبہ کریں گے، یہ بات پاکستان علماء کونسل کی مرکزی مجلس شوریٰ و عاملہ کے اجلاس کے بعد فیصلوں کا اعلان کرتے ہوئے کہی۔

(جاری ہے)

مرکزی چیئرمین حافظ محمد طاہر محمود اشرفی ، مولانا عبد الکریم ندیم، مولانا ایوب صفدر ، مولانا عبد الحمید وٹو ، مولانا زبیر عابد ، مولانا محمد شفیع قاسمی ، مولانا اسد اللہ فاروق ، علامہ طاہر الحسن ، مولانا اسعد زکریا، مولانا اسید الرحمن سعید، مولانا محمد اشفاق پتافی ، مولانا عمار بلوچ ، مولانا حاجی محمد طیب قادری ، مولانا عبد القیوم فاروقی ، مولانا عزیز اکبر قاسمی ، مولانا اسلم قادری ، مولانا شکیل الرحمن قاسمی ، مولانا امین الحق اشرفی ، مولانا حق نواز خالد ، مولانا قاری عبد الحکیم اطہر، مولانا اسلم صدیقی ، مولانا عبد المالک ا?صف، مولانا مفتی عمران معاویہ، حمزہ طاہر الحسن، مولانا نصراللہ قاسمی، مولانا حبیب الرحمن عابد،حافظ کفائت اللہ، مولانا اسماعیل عثمانی ، قاری اعجاز ملک، مولانا عبد اللہ رشیدی اور دیگر نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان علماء کونسل محاذ آرائی ، تشدد و فساد کی سیاست نہیں چاہتی ، پاکستان علماء کونسل کسی مارچ یا دھرنے میں شریک نہیں ہو گی ، حزب اختلاف اور حزب اقتدار باہمی مفاہمت اور مذاکرات سے مسلہ حل کرنے کی کوشش کریں ،آزادی مارچ سے تبلیغی اجتماع میں آنے والے شرکا کے متاثر ہونے کا بھی خدشہ ہے لہذا پاکستان اور عالم اسلام کے حالات کا تقاضہ ہے کہ ملک میں کسی بھی انتشار اور فساد کو نہ پھیلنے دیا جائے۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ 23 فروری کو یوم تاسیس اور 29 مارچ کو پانچویں عالمی پیغام اسلام کانفرنس ہو گی، ماہ ربیع الاول ، ماہ ربیع الثانی کو ماہ رحمت للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کے طور پر منایا جائے گا۔ اجلاس میں ایک قرار داد کے ذریعے وزیر اعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی طرف سے مسلم ممالک کے درمیان مصالحت کروانے کی کوششوں کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب کی آئل تنصیبات پر حملے قابل مذمت ہیں ، سعودی عرب اور پاکستان کے خلاف ہونے والی سازشوں کی مذمت کرتے ہیں اور وزیر اعظم عمران خان اور آرمی چیف ایران اور سعودی عرب کے درمیان جو مصالحتی کوششیں کر رہے ہیں ، ملک بھر کے علماء و مشائخ اس کی مکمل تائید کرتے ہیں۔

اجلاس میں ایک اور قرارداد کے ذریعے کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کی مکمل تائید کرتے ہیں، کہا گیا کہ 18 اکتوبر کو ملک بھر میں جمعتہ المبارک کے اجتماعات میں یوم یکجہتی کشمیر کے طور پر منایا جائے گا۔ پاکستان علماء کونسل اسلامی اور دیگر ممالک میں اپنے وفود ارسال کرنے کا سلسلہ جاری رکھے گی۔ اجلاس میں ایک اور قرارداد میں ترک عرب تعلقات میں پیدا ہونے والی صورتحال پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا گیا کہ ترک عرب تعلقات کی خرابی سے مسلم امہ مزید کمزور ہو گی اور خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبد العزیز سے اپیل کی گئی کہ کشمیر ، فلسطین ، ایران ، عرب ، ترک عرب تعلقات میں پیدا ہونے والی صورتحال پر فوری طور پر اسلامی سربراہی کانفرنس بلائی جائے اور امت مسلمہ کے مسائل کا حل باہمی اتحاد سے کیا جائے۔

اجلاس میں حضرت مولانا پیر عزیز الرحمن ہزاروی ، حافظ محمد طاہر محمودا شرفی ، مولانا سرفراز اعوان کی والدہ کی وفات پر اظہار تعزیت کیا گیا اور دعائے مغفرت کی گئی۔ اجلاس میں مولانا ایوب صفدر مرکزی وائس چیئرمین ، مولانا زبیر عابد مرکزی وائس چیئرمین ، مولانا حق نواز خالد مرکزی نائب سرپرست ، مولانا عمار نذیر بلوچ ، مولانا طیب شاد قادری معاون خصوصی چیئرمین ، مولانا ابو بکر شاہ مشیر صدر پنجاب ، مولانا یاسر علوی ڈویژنل نائب صدر فیصل آباد منتخب کیے گئے۔