اشتہار کا بنیادی مقصد مصنوعات کی تشہیر اور عوام تک اس سے متعلق ضروری معلومات کی رسائی ہوتی ہے۔ڈاکٹر خالد عراقی

ہفتہ نومبر 19:10

کراچی۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 09 نومبر2019ء) جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمودعراقی نے کہا ہے کہ اشتہارات مارکیٹنگ کا ایک اہم جز تصور کیا جاتاہے ،کسی بھی برانڈ یا پراڈکٹ کی کامیابی یا ناکامی کے پیچھے بھی اشتہارات کی کامیابی یا ناکامی ہوتی ہے ،اشتہار کا بنیادی مقصد مصنوعات کی تشہیر اور عوام تک اس سے متعلق ضروری معلومات کی رسائی ہوتی ہے کیونکہ ٹیلی ویژن اور ریڈیو پر چلنے والے اشتہارات کا دورانیہ قلیل ہوتاہے جبکہ اخبارات اور میگزین میں پراڈکٹس کے لوگو،ٹیگ لائن اور سلوگن کے ذریعے قارئین کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے،اسی وجہ سے اشتہارات مکمل ،جامع،پُر اثر اور دیر تک ذہنوں میں رہ جانے والے بنائے جاتے ہیں تاکہ برانڈ یا پراڈکٹ کامیابی سے ہمکنار ہوسکے ،ہر اشتہار کے مخصوص قارئین / سامعین ہوتے ہیںاور یہی وجہ ہے کہ ہدف کو مدنظر رکھتے ہوئے اشتہار مرتب کئے جاتے ہیں۔

(جاری ہے)

ان خیالا کا اظہار انہوں نے جامعہ کراچی کے شعبہ نفسیات کے زیر اہتمام اور سیمینار سپروائزر پروفیسر ڈاکٹر فرح اقبال شعبہ نفسیات جامعہ کراچی کی زیرنگرانی کلیہ فنون وسماجی علوم کی سماعت گاہ میں منعقدہ سیمینار بعنوان: ’’Advertise Your Idea ‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ پروفیسر ڈاکٹر فرح اقبال نے کہا کہ نفسیات کسی بھی پراڈکٹ کو کامیاب بنانے میں ایک اہم کردار اداکرتاہے،اس کے ذریعے صارف کی توجہ آسانی سے حاصل کی جاسکتی ہے ،ایسے بہت سے عوامل ہیں جو عملی طور پر ہمارے جذبات پر اثر انداز ہوتے ہیں ،اس وقت ملک کی 56 فیصد آبادی سوشل میڈیا کا استعمال کررہی ہے جن کی ایک واضح اکثریت اشتہارات یا کسی بھی پراپیگنڈے سے متاثر ہوجاتی ہے۔

سی ای او آف دی فلم کمپنی ایڈورٹائزنگ ڈائریکٹر محسن رضوی نے کہا کہ تخلیق کسی کی میراث نہیں ہوتی اور ہر شخص باصلاحیت ہوتاہے،تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ آپ اپنی صلاحیتوں کو پہنچانے اور ان کا صحیح استعمال کرنے کے لئے تمام ممکنہ وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کریں تاکہ اپنی منتخب کردہ فیلڈ کے سرفہرست لوگوں میں شامل ہوسکیں۔

صدر انجمن اساتذہ جامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر انیلا امبر ملک نے کہا کہ جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ عوامی جذبات کا اشتہارات کی کامیابی یا ناکامی پر گہرا اثر ہوتاہے،اسی لئے مصنوعات بنانے والی کمپنیاں یا اشتہارات بنانے والے ادارے اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے اشتہارات کو کامیاب بنانے کے لئے ہر ممکن اقدام کرتے ہیں۔مشہور اداکار نعمان حبیب نے کہا کہ کسی بھی اشتہار کا مطلب جلد واضح ہوجانا چاہیئے بصورت دیگر وہ عوام کے ذہنوں میں جگہ بنانے میں ناکام ہوسکتے ہیں،ڈراموں کی طرح اب اشتہارات کے بھی مختلف سیزن بننے لگے ہیں ،ہر وہ اشتہار جو انسان کی روزمرہ زندگی سے جڑا ہو اور بہت اچھے طریقے سے پیش کیا جائے اس کی کامیابی کے امکانات بھی زیادہ ہوتے ہیں۔

سیمینار میں اساتذہ وطلبہ کی کثیر تعداد نے شرکت کی اور سیمینار کے اختتام پر سوال وجواب کا سیشن بھی ہوا۔