اختیارات کا روانا رویا جاتا ہے ، کہا جاتا ہے کہ صوبائی حکومت نے بلدیاتی اداروں کے اختیارات چھینے ہیں، سید مصطفی کمال

جمعرات دسمبر 22:43

اختیارات کا روانا رویا جاتا ہے ، کہا جاتا ہے کہ صوبائی حکومت نے بلدیاتی ..
حیدرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 12 دسمبر2019ء) پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفی کمال نے کہا ہے کہ اختیارات کا روانا رویا جاتا ہے ، کہا جاتا ہے کہ صوبائی حکومت نے بلدیاتی اداروں کے اختیارات چھینے ہیں ، 2013ء میں ایم کیوایم اسی صوبائی حکومت میں تھی، گورنر آپ کا تھا ، آپ نے ایک دستخط سے یہ اختیارات خود دیئے ہیں ۔ وہ حیدرآباد میں حسرت موہانی لائبری میں صحافیوں سے بات چیت کررہے تھے۔

اس موقع پر پی ایس پی کے صدر انیس قائم خانی، شبیر قائم خانی، قاضی ندیم، شعیب جعفری، ریاست قائم خانی بھی موجو دتھے۔ مصطفی کمال نے کہاکہ حکومت دعوے کررہی ہے کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم ہورہا ہے ، موڈیز کی رپورٹ ہے کہ ملکی معیشت بہتر ہورہی ہے لیکن عام غریب آدمی جو چار سو روپے کلو ٹماٹر خرید رہا ہے اس کی زندگی پر کوئی فرق نہیں پڑرہا۔

(جاری ہے)

مہنگائی 13فیصد سے تجاوز کرگئی ہے یہ تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے ۔

آنے والا سال زیادہ خراب ہونے جارہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ قوموں کی زندگی میں مشکلات آتی ہیں لیکن ملک کو چلانے والے اپنے عمل سے بتاتے ہیں کہ انہیں اس مشکلات حل کرنے کا ادراک ہے لیکن یہ حکومت کچھ نہیں کرسکتی۔ انہوں نے کہاکہ سندھ میں کتے کے کاٹے کی ویکسین نہیں ، صوبائی وزیر صحت کہہ رہی ہیں کہ کتے کو کچھ نہیں کہیں اپنے بچوں کو سنبھالیں، اب تک سندھ میں کتے کے کاٹے سے 35اموات ہوچکی ہیں ، انہوں نے کہاکہ چند روز قبل ایم کیوایم کے لیڈران نے مردم شماری کے حوالے سے پریس کانفرنس کی ، ہم ڈیڑھ سال سے اس پر آواز بلند کررہے ہیں ، لاہور میں 3فیصد آبادی بڑھ رہی ہے وہاں کہیں اور جگہ سے لوگ آکر نہیں بستے، کراچی میں پاکستان کے کونے کونے سے لوگ آکر آباد ہوتے ہیں لیکن مردم شماری میں کراچی اور حیدرآبا دکی آبادی کو کم ظاہر کیا گیا ، انہوں نے کہا کہ پاکستان واحد ملک ہے جہاں آڈٹ کے بغیر مردم شماری کو فائنل کیا جارہا ہے ۔

، ہم ایم کیوایم سے معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ وہ مردم شماری کم ہونے کا مطالبہ کس سے کررہی ہے جبکہ وہ خود حکومت ہے ، ہر ہفتے وفاقی کابینہ کی میٹنگ میں ان کے دو وزیر خالد مقبول صدیقی اور فروغ نسیم بیٹھے ہوتے ہیں آپ حکومت میں بیٹھ کر کراچی اور حیدرآباد کی آبادی کو پاکستان میں شامل کرادیں ہم ہر چوک پر آپ کے خیر مقدمی بینرز لگائیں گے۔