بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے یوم پیدائش کے سلسلے میں مذاکروں، مشاعرہ اور تقریری و تصویری مقابلوں سمیت دس منفرد پروگراموں کا انعقاد

منگل دسمبر 20:49

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 31 دسمبر2019ء) بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے یوم پیدائش کے سلسلے میں ادارہ فروغ قومی زبان کے زیراہتمام پانچ مذاکروں ایک مشاعرہ اورقائد اعظم پر نایاب کتابوں کی نمائش قائد اعظم پر تقریری اور تصویری مقابلوں سمیت دس منفرد پروگراموں کا انعقاد کیا گیا۔ یوم قائدکے حوالے سے ان تقریبات کاآئیڈیا وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود اور وفاقی سیکرٹری قومی تاریخ و ادبی ورثہ ڈویژن ڈاکٹر ندیم شفیق ملک نے دیا تھا جس کے تحت ڈویژن سے متعلقہ اداروں میں تین ہفتوں کے دوران دو سو سے زائد تقریبات منعقد ہو چکی ہیں۔

ادارہ فروغ قومی زبان کے تحت ان تقریبات کے سلسلے میں آخری مذاکرے کا موضوع ’’قائد اعظم کے نظریاتی رفقاء‘‘ تھا جس پر ممتاز تاریخ دان ڈاکٹر ریاض احمد، قائد اعظم یونیورسٹی کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر سید وقار علی شاہ اور اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر حمایت اللہ نے گفتگو کی۔

(جاری ہے)

مقررین نے کہا کہ قائد اعظم کے رفقاء میں لیاقت علی خان ،سردار عبدالرب نشتر ، پیر آف مانکی شریف ،میاں بشیر احمد، ظہور عالم شہید،خواجہ ناظم الدین، حسین شہید سہروردی ،قاضی محمد عیسی ،مولوی فضل الحق ، حمید نظامی، محترمہ فاطمہ جناح، راشدہ لطیف ،لیڈی عبداللہ ہارون ،شائستہ اکرام، بیگم زریں سرفراز ،بیگم رعنا لیاقت علی خان، مسلم سٹوڈنٹ فیڈریشن اور مسلم گرلز سٹوڈنٹ فیڈریشن وغیرہ سمیت وہ سب لوگ بھی شامل تھے جو ہندوستان کو خیر باد کہہ کے پاکستان آ گئے اور لاہور کے مہاجر کیمپوں میں مقیم ہوئے۔

قائداعظم کی شخصیت سب کیلئے متاثر کن تھی وہ لوگ جو پہلے قائد اعظم کے زیادہ قریب نہیں تھے پاکستان بننے کے بعدقائد کی شخصیت کا برملا اعتراف کرنے لگے۔ مقررین نے نوجوان نسل پر زور دیا کہ وہ تحریک پاکستان اور قائد اعظم جیسی تاریخ ساز ہستیوں کے حالات زندگی کو بار بار پڑھیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی تقاریب سے ہمیں اپنے ہیروزکے کارناموں کو جاننے میں مدد ملتی ہے۔

ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر راشد حمید نے ادارہ فروغ قومی زبان میں قائد اعظم کی ان تقریبات کے کامیاب انعقاد پر سب کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ قائد اعظم کو بار بار یاد کرنا چاہئے یہ ہمارا فرض بھی ہے اور قائد کا ہم پر قرض بھی ہے۔ ڈاکٹر شیر علی نے نظامت کے فرائض انجام دیے۔اس موقع پر وفاقی اردو یونیورسٹی کے اساتذہ اور طلبہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔