فیصل آبادڈویژن سمیت پنجاب کی 46 شوگر ملیں روزانہ 3لاکھ 36ہزار 3سو ٹن گنے کی پیلائی کی استعداد رکھتی ہیں، ماہرین زراعت

منگل جنوری 14:42

فیصل آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 14 جنوری2020ء) جامعہ زرعیہ فیصل آباد کے ماہرین زراعت نے کہا کہ فیصل آبادڈویژن سمیت پنجاب کی 46 شوگر ملیں روزانہ 3 لاکھ 36 ہزار 3سو ٹن گنے کی پیلائی کی استعداد رکھتی ہیں جبکہ پاکستان دنیا میں کماد پیدا کرنے والے 105 ممالک میں رقبے کے لحاظ سے چوتھے ،پیداوار کے لحاظ سے ساتویں اور چینی کی پیداوار کے لحاظ سے نویں نمبر پر ہے نیز بہاریہ کاشت کے دوران منظور شدہ اقسام کاشت کرکے گنے کی پیداوار میں مزید اضافہ یقینی بنایاجاسکتاہے۔

اے پی پی سے گفتگو کے دوران انہوںنے کہاکہ کاشتکارکماد کی اگیتی تیار ہونے والی ترقی دادہ اقسام سی پی ایف 243، ایچ ایس ایف 240 ، ایچ ایس ایف 242، سی پی 77-400 اور سی پی ایف 273 وغیرہ میں سے دو سے تین اقسام کاشت کرکے بہترین فصل حاصل کرسکتے ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہاکہ کاشتکار بہاریہ کماد کی کاشت فروری سے شروع کر یں اورجدید زرعی پیداواری ٹیکنالوجی پر عمل کرکے فی ایکڑ اخراجات میں کمی کے ساتھ پیداوار میں اضافہ کویقینی بنائیں۔

انہوں نے کہاکہ کما د کی اچھی پیداوار کیلئے بھاری میرا زمین جس میں پانی کا نکاس اچھا ہوکا انتخاب کرناچاہیے نیز کاشتکار زمین کی تیاری کیلئے روٹا ویٹر یا ڈسک ہیرو چلا کر پچھلی فصل کی باقیات کو زمین میں ملا دیںاور بعد میں کم گہری10 سے 12 انچ والی کھیلیوں کیلئے 2 مرتبہ کراس چیزل ہل یا1 مرتبہ مٹی پلٹنے والا ہل ضرور چلائیں۔ انہوںنے کہاکہ اگر زیادہ گہری کھیلیاں 18 انچ بنانی ہوں تو سب سائیلر کا استعمال کیاجاسکتاہے بعد ازاں ضرورت کے مطابق 3 سے 4 دفعہ عام ہل چلا کر زمین کو خوب بھربھرا کر لیناچاہیے۔

انہوںنے کہاکہ کاشتکار زمین کی بہتر تیاری کیلئے ہر 3 سال بعد ایک دفعہ سب سائیلر کا ہل استعمال کریں ۔انہوںنے بتایاکہ بروقت کاشت اور دیگر موزوں حالت میں فی ایکڑ چار آنکھوں والے 13 سے 15 ہزار سمے یا تین آنکھوں والے 17 سے 20 ہزار سمے ڈالے جائیں کیونکہ یہ تعداد گنے کی موٹائی کے لحاظ سے تقریباً 100سے 120 من بیج سے حاصل کی جا سکتی ہے۔انہوںنے کہاکہ کاشت میں تاخیر یا زمین کی صحیح تیاری نہ ہو تو بیج کی مقدار میں 10 سے 15 فیصد اضافہ کیاجانا ضروری ہے جبکہ صحتمند بیج کو 12 سے 16 مرلے تک لیا جا سکتا ہے لیکن یہ یاد رکھاجائے کہ 12 مرلہ کی صورت میں فصل 9 من اور 16 مرلہ کی صورت میں 7 من فی مرلہ سے کم نہ ہو۔

انہوںنے کہاکہ کماد کی بوائی گنے ہی سے کاٹے ہوئے 4یا3 آنکھوں والے ٹکڑوں (سموں) کے ذریعے کی جائے اور ہمیشہ صحتمند، بیماریوں اور کیڑوں سے پاک فصل سے بیج کا انتخاب کیاجائے ۔