نئے ڈی جی آئی آیس پی آر میجر جنرل بابرافتخارآرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ کی چوائیس ہیں

فوج میں پوسٹنگ ایک معمول کی بات ہوتی ہے اور یہ پوسٹنگز مارچ تک جاری رہیں گی، یہ پروپیگنڈا کیا جارہا ہے کہ جنرل آصف غفور کو ثناء بچہ سے فیس ٹو فیس ہونے پر فارغ کیا گیا لیکن اس میں کوئی صداقت نہیں۔ ایسا ہی پروپیگنڈا عاصم باجوہ کی تبدیلی پربھی کیا گیا تھا: سینئر صحافی صابر شاکر کا بیان

Usama Ch اسامہ چوہدری اتوار جنوری 17:36

نئے ڈی جی آئی آیس پی آر میجر جنرل بابرافتخارآرمی چیف جنرل قمرجاوید ..
اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین 19 جنوری 2020) : ڈی جی آئی آیس پی آر میجر جنرل بابرافتخارآرمی چیف کی چوائیس ہیں، تفصیلات کے مطابق سینئر صحافی صابر شاکر کا کہنا ہے کہ یہ پروپیگنڈا کیا جارہا ہے اور بغلیں بجائی جارہی ہیں کہ جنرل آصف غفور کو ثناء بچہ سے فیس ٹو فیس ہونے پر فارغ کیا گیا لیکن اس میں کوئی صداقت نہیں۔ ایسا ہی پروپیگنڈا عاصم باجوہ کی تبدیلی پربھی کیا گیا تھا۔

انھوں نے مزید بتایا کہ میجر جنرل آصف غفور کی اکتوبر میں تبدیلی ہونا تھی لیکن معاملات کے پیش نظر ایسا نہیں کیا جا سکا تھا، فوج میں پوسٹنگ ایک معمول کی بات ہوتی ہے اور یہ پوسٹنگز مارچ تک جاری رہیں گی۔ انھوں نے مزید بتایا کہ میجر جنرل بابرافتخار آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی چوائس ہیں۔

(جاری ہے)

اب جنرل قمر جاوید باجوہ ایک نئی ٹیم کے ساتھ کام کرینگے۔

 
یاد رہے کہ اس سے قبل دفاعی تجزیہ نگار امجد شعیب سے سوال کیا گیا تھا کہ کیا آصف غفور کو سوشل میڈیا کے زیادہ استعمال پر تبادلہ کیا گیا؟جس کا جواب دیتے ہوئے امجد شعیب نے بتایا تھا کہ ایسی کوئی وجہ نہیں،ایک جگہ پر آپ کا دو سال کا دور ہوتا ہے اور کوشش ہوتی ہے کہ ایک آدمی نے اگر میجر جنرل کے عہدے پر چار پانچ سال رہنا ہے تو اس کو ایک سروس کا تجربہ دیا جاتا ہے تاکہ وہ آگے پروموشن کے لیے آگے جا سکے۔

امجد شعیب نے مزید کہا تھا کہ فوج کا ترجمان ہونا اور کمانڈ سنبھالنا دو الگ الگ کام ہیں۔ بطور ڈی جی آئی ایس پی آر ان کی مدت ملازمت ختم ہو چکی تھی اس لیے انہیں رخصت کیا گیا۔انہوں نے بطور ڈی جی آئی ایس پی آر بہت اچھا کام کام کیا۔ لیکن اس تجربے کی بنیاد پر وہ آگے کور کی کمانڈ نہیں کر سکتے اس لیے آصف غفور کو واپس فیلڈ میں جانا چاہئیے تھا۔

امجد شعیب نے مزید کہا تھا کہ آصف غفور کا بطور ڈی جی آئی ایس پی آر ریکارڈ بہت اچھا ہے،ٹویٹس کا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ اصولاََ آرمی کے خلاف جو بھی ٹویٹ لکھتا ہے اس کا کسی نہ کسی لیول میں جواب دینا چاہئیے۔انہوں نے کچھ اکاؤنٹس بنائے ہوئے تھے جہاں سے جواب جاتے تھے۔لیکن ٹویٹر نے ان میں سے کئی اکاؤنٹ بند کر دئیے۔کچھ لوگ ٹویٹر پر ایسی باتیں کرتے ہیں جن سے پاک فوج کے خلاف غلط فہمی پیدا ہو سکتی ہے اور ایک ڈی جی آئی ایس پی آر ان کا کام تھا کہ وہ آرمی کا امیج برقرار رکھتے۔آرمی کے اوپر لگنے والے بہتان کا جواب دیں۔ٹویٹر پر وہ جو کچھ لکھ رہے تھے وہ جی ایچ کیو کی پالیسی کے مطابق لکھ رہے تھے۔خود بخود تو یہ چیزیں نہیں کی جا سکتیں۔