اگلے ہفتے پنجاب حکومت کی تبدیلی کا عمل شروع ہوجائے گا

پنجاب کی وزارت اعلیٰ اب پرویز الٰہی کی جیب میں پڑی ہوئی ہے، کسی بھی وقت پنجاب میں وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کیخلاف تحریک عدم اعتماد آسکتی ہے۔سینئر تجزیہ کار مبشر لقمان

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ اتوار جنوری 22:37

اگلے ہفتے پنجاب حکومت کی تبدیلی کا عمل شروع ہوجائے گا
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔19 جنوری 2020ء) سینئر تجزیہ کار مبشر لقمان نے کہا ہے کہ اگلے ہفتے پنجاب حکومت کی تبدیلی کا عمل شروع ہوجائے گا، پنجاب کی وزارت اعلیٰ اب پرویز الٰہی کی جیب میں پڑی ہوئی ہے،کسی بھی وقت پنجاب میں وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کیخلاف تحریک عدم اعتماد آسکتی ہے۔ انہوں نے پنجاب حکومت کی کارکردگی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی وزراء اور صوبائی وزراء اور معاون خصوصی سے ملاقاتیں ہوئی ہیں، اب لوگ بھی پنجاب میں تبدیلی چاہتے ہیں، یہ تبدیلی گورننس کی نہیں بلکہ حکومت کی تبدیلی ہوگی۔

لوگ مثالیں دے رہے ہیں کہ پنجاب میں حکومت کی تبدیلی کے عمل میں پرویز الٰہی اہم کردار ادا کریں گے، پنجاب کی وزارت اعلیٰ اب پرویز الٰہی کی جیب میں پڑی ہوئی ہے۔

(جاری ہے)

کسی بھی وقت پنجاب میں وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کیخلاف تحریک عدم اعتماد آسکتی ہے۔دوسری جانب پی ٹی آئی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ سب بے کار کی باتیں ہیں، ہم اپنی کارکردگی کی بنیاد پر اگلا الیکشن بھی جیتیں گے اور مزید پانچ سال کیلئے حکومت میں آئیں گے۔

جبکہ پنجاب میں حکومت کے بڑے اتحادی مسلم لیگ ق ہیں، ان کا کہنا ہے کہ ہم پنجاب میں حکومت کے خلاف نہیں چلیں گے، ہم حکومت کے ساتھ ہیں، تاہم ان ہاؤس تبدیلی کی بات غیرجمہوری نہیں، بلکہ وہ آئین اور قانون کے عین مطابق ہے۔اب پرویز الٰہی کو مکمل عبور حاصل ہے کہ انہوں نے کس طرح پنجاب حکومت کو گرانا ہے۔اسی طرح سینئر دفاعی تجزیہ کار جنرل (ر) امجد شعیب کا کہنا ہے کہ چودھری پرویزالٰہی کو وزیراعلیٰ بنایا گیا تو پی ٹی آئی میں بڑے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں، عثمان بزدار جیسا بھی ہے وہ تحریک انصاف کا آدمی ہے۔

جب بھی پرویز الٰہی وزیراعلیٰ آتے ہیں تو یہ بہت بڑی تبدیلی ہوگی جس پر پارٹی رہنماء اس پراحتجاجی ردعمل دیں گے۔دوسرا بڑا مسئلہ یہ پیدا ہوگا کہ پرویز الٰہی اس وقت بڑے خواہش رکھتے ہیں کہ اگر بزدار کو ہٹایا جاتا ہے تو انہی کو وزیراعلیٰ بنایا جائے۔کیونکہ ان کے پاس تجربہ ہے یہ پنجاب کے کیلئے بہتر بھی ہوگا، وہ وزیراعلیٰ بن کے اپنی جماعت کو بھی پنجاب میں تنظیم نوکرنا چاہتے ہیں، لیکن پی ٹی آئی نہیں چاہے گی مسلم لیگ ق پنجاب میں منظم ہوجائے۔

اور ق لیگ ان کے لیے چیلنج بن جائے۔ پارٹی میں بہت سارے لوگ وزیراعظم کو خبردار بھی کررہے ہیں، کہ آج اگر آپ ان کو وزیراعلیٰ بنا دیتے ہیں لیکن الیکشن میں سارا فائدہ مسلم لیگ ق کو ہوگا،پی ٹی آئی کو اس کا فائدپ نہیں ہوگا۔واضح رہے مسلم لیگ ق کے رہنماء کامل علی آغا بھی اس طرح کے جذبات کا اظہار کرچکے ہیں۔