بھیم سنگھ نے کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے خلاف بھارتی سپریم کورٹ میں عرضداشت کردی

جمعہ فروری 13:32

سرینگر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 14 فروری2020ء) مقبوضہ کشمیرمیں جموںوکشمیر نیشنل پینتھرز پارٹی کے سرپرست اعلیٰ بھیم سنگھ نے دو سابق وزرائے اعلیٰ عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی کی کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتاری کے چند روز بعد بھارتی سپریم کورٹ میں پی ایس اے کے خلاف ایک عرضداشت دائر کی ہے ۔ کشمیر میڈیاسروس کے مطابق بھیم سنگھ نے جو سپریم کورٹ کے سینئر وکیل بھی ہیں عدالت عظمیٰ میں پی ایس اے کے خلاف ایک عرضداشت دائر کی ۔

(جاری ہے)

عرضداشت میں کہاگیا ہے کہ کالے قانون کے تحت مقبوضہ کشمیرمیں چھ سو سے زائد سیاسی کارکنوں کو گرفتار کیاگیا ہے ۔عرضداشت میں سپریم کورٹ سے 1978میں نافذ کئے گئے پبلک سیفٹی ایکٹ کے کالے قانون کو منسوخ کرنے کی استدعا کی گئی ہے ۔ عرضداشت میں سپریم کورٹ سے مقبوضہ کشمیر یا بھارت میں پی ایس اے کے تحت چھ ماہ یا اس سے زائد عرصے تک غیر قانونی طورپر نظر بند رہنے والے کشمیریوں کو مناسب معاوضے کی ادائیگی کا بھی مطالبہ کیاگیا ہے ۔ واضح رہے کہ بھارت نے گزشتہ سال 5اگست کو آئین کی دفعہ 35Aکو منسوخ کرکے جموںوکشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی تھی ۔