سلامتی کونسل میں اصلاحات کے لئے فریقین لچک کا مظاہرہ کریں ، پاکستان

جمعہ فروری 15:35

نیویارک ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 14 فروری2020ء) پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات کے حوالے سے دیرپا مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لئے فریقین سے لچک کا مظاہرہ کرنے کی اپیل ہے تاکہ یہ معاملہ افہام وتفہیم سے حل ہو جائے۔ سلامتی کونسل کو مزید موثر بنانے کے حوالے سے بین الحکومتی بات چیت اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستانی مندوب عامر خان نے کہا کہ سلامتی کونسل کے ارکان اقوام متحدہ کے منشور کے بنیادی اصولوں کی روشنی میں فیصلہ کریں ۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان سمیت یو ایف سی گروپ کی9 ممالک سلامتی کونسل کے مستقل ممبران کی تعداد میں اضافہ کے حق میں نہیں کیونکہ مشترکہ مفاد کو نظرانداز کرنے سے سلامتی کونسل میں اصلاحات کی کوششوں میں تعطل آیا ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ جانبدارانہ طرز عمل پر مبنی امتیازی اقدامات اصلاحات کے پورے عمل کو پٹڑی سے اتار سکتے ہیں ، اس لئے باہمی تبادلہ خیال کے ذریعے اختلافات کو حل کرنے کی کوشش کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ ہم تمام رکن ممالک سے سیاسی حمایت حاصل کرنے کے لئے پرعزم ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ تمام ممبر ممالک کا تحفظ یقینی بنانے کے لئے فریقین لچک کا اظہار کریں اور ایک سمجھوتے پر متفق ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اب اس حوالے سے فیصلہ کن مکالمے کا انتخاب کرنا چاہئے۔ فروری 2009ء میں سلامتی کونسل ارکان کی درجہ بندی ، ویٹو معاملہ ، علاقائی نمائندگی ، ممکنہ توسیع اور کام کے طریقہ کار کے حوالے سے اصلاحات کے لئے مذاکرات کا عمل شروع ہوا تھا ۔

واضح رہے کہ سلامتی کونسل کو وسعت دینے کے حوالے سے رکن ممالک تقسیم کا شکارہیں۔ گروپ آف فور میں برازیل ، جرمنی اور جاپان کے علاوہ بھارت بھی شامل ہے۔ یہ گروپ 6 اضافی مستقل اور چار غیر مستقل ممبران کے ساتھ کونسل میں 10 ارکان کے اضافے کے لئے کوشاں ہے ۔ دوسری جانب پاکستان مستقل ارکان میں اضافے کے مخالف یو ایف سی گروپ کے ساتھ ہے۔ اس وقت برطانیہ ، چین ، فرانس ، روس اور امریکہ سلامتی کونسل کے 5 مستقل ممبر جبکہ ان کے علاوہ 10 غیر مستقل ارکان ہیں۔