ْوطن عزیز کو دوبارہ ترقی و خوشحالی کے دور میں لے جانے کے آپریشن رد الفساد کوتین سال مکمل

آپریشن رد الفساد کی کامیابیوں کی وجہ سے ہی آج پاکستان میں معمول کی زندگی پوری طرح بحال ہو چکی ، کھیلوں کے میدان سج گئے

جمعہ فروری 16:48

ْوطن عزیز کو دوبارہ ترقی و خوشحالی کے دور میں لے جانے کے آپریشن رد ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 21 فروری2020ء) وطن عزیز کو دوبارہ ترقی و خوشحالی کے دور میں لے جانے کے آپریشن رد الفساد کوتین سال مکمل ہو گئے ۔ تفصیلات کے مطابق دہشت گردی کی اعصاب شکن طویل جنگ کی کامیابیوں کے ثمرات سمیٹنے اور دیرپا امن و استحکام کی منزل حاصل کرنے کا اہم ترین مرحلہ آپریشن رد الفساد انتہائی کامیابی کے ساتھ جاری ہے۔

وطن عزیز کو دوبارہ ترقی و خوشحالی کے دور میں لے جانے کے اس مشن کے آج تین سال مکمل ہو گئے ہیں، آپریشن رد الفساد کی کامیابیوں کی وجہ سے ہی آج پاکستان میں معمول کی زندگی پوری طرح بحال ہو چکی ہے، کھیلوں کے میدان سج گئے ہیں، غیر ملکی سیاحوں کی آمد آمد ہے۔آپریشن رد الفساد کا تین سال پہلے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ کی کمان میں آغاز ہوا۔

(جاری ہے)

ان تین سالوں میں ملک بھر میں ایک لاکھ 49 ہزار سے زائد انٹیلی جینس بیسڈ آپریشنز کیے گئے جن کے ذریعے ملک کے طول و عرض میں عام عوام میں شامل ہو کر اپنی شناخت چھپا کر بچ نکلنے والے دہشت گردوں، انتہا پسندوں اور ان کے سہولت کاروں کا پیچھا کیا گیا، انہیں مارا گیا، پکڑا گیا، بے نقاب کیا گیا اور قانون کے سخت کٹہرے میں لایا گیا۔انسداد دہشتگردی کی جنگ کے دوران 2001 سے 2020 تک 350 سے زائد بڑے، 850 سے زائد معمول کے آپریشنز کیے گئے۔

آپریشن رد الفساد کے تحت2017 سے 2019ء تک کل 3 ہزار 800 سے زائد خطرات کے انتباہ جاری کیے گئے، سیکیورٹی فورسز، انٹیلی جنس اداروں نے آئی بی اوز کے ذریعے دہشتگردوں کے 398 مذموم منصوبے ناکام بنائے۔فوجی عدالتوں نے 344 دہشتگردوں کو سزائے موت، 301 کو مختلف دورانیے کی سزائیں دیں جب کہ 5 کو بری کیا۔آپریشن رد الفساد کے تحت دہشت گردوں کی پاک افغان سرحد پر آزادانہ نقل و حرکت کو مکمل طور پر روکنے کا بڑا منصوبہ بھی بنایا گیا جس کے تحت پاک، افغان سرحد پر 2611 کلومیٹر میں سے 1450 کلومیٹر پر باڑ کی تنصیب مکمل کر لی گئی ہے۔

سرحدی باڑ کیساتھ 843 حفاظتی قلعوں میں سے 343 مکمل ہو چکے جب کہ 161 زیر تعمیر انسداد دہشتگردی کی جنگ کے دوران اپنی جانیں قربان کرنے والوں کی بدولت آج کے پرامن و ترقی کے سفر پر گامزن پاکستان کو دنیا بھی مان رہی ہے، پرامن و مستحکم پاکستان کے عالمی سطح پر ادراک میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی عسکری سفارتکاری کا کلیدی کردار ہے۔رپورٹ کے مطابق آپریشن ردالفساد کے نتیجہ خیز ہونے کی بات کی جائے تو آج کا پاکستان دیکھ لیں،جواب خود مل جائے گا۔

شہر قائد جرائم کی عالمی درجہ بندی میں چھٹے سے اکیانوے نمبر پر آ گیا ہے،پاکستان میں کھیل کے میدان آباد ہو گئے، سیاحت فروغ پا رہی، غیرملکی سیاح، کھلاڑی سب آنے لگے ہیں،پاکستان میں بدھ مت، ہندو، سکھ مذاہب کے پیروکاروں کی جوق در جوق آمد بھی امن کا پیام ہے،کبڈی ورلڈ کپ، سری لنکا، بنگلہ دیش کرکٹ ٹیموں کی آمد نے ثابت کیا، پاکستان پھر سے امن کا گہوارہ بن چکا۔

یہ آپریشن ردالفساد کا ہی ثمر ہے کہ پہلی مرتبہ پاکستان سپر لیگ کا انعقاد پاکستان میں ہو رہا ہے ،عالمی سطح پر انسداد دہشتگردی کی جنگ میں پاکستانی کاوشوں، کامیابیوں کو سراہا گیا ہے،امریکا، برطانیہ نے اپنے شہریوں کیلئے پاکستان کو محفوظ قرار دیا، سفری انتباہ نرم کر دیا،برٹش ائیر ویز نے 10 سال بعد پاکستان کیلئے پروازیں شروع کیں، نئی ایئر لائنز نے پاکستان کا رخ کیا۔

اسلام آباد دنیا میں سب سے پرامن شہروں میں شامل ہوا، اقوام متحدہ کا فیملی سٹیشن بنا،تین سال پہلے جب آپریشن رد الفساد کا آغاز ہوا تو آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا تھا کہ ہر پاکستانی آپریشن رد الفساد کا سپاہی ہے۔ آئیں مل کر اپنے پاکستان کو محفوظ اور مضبوط بنائیں۔سپہ سالار کے ان الفاظ پر لبیک کہتے ہوئے تین سالوں میں عوام اور سیکیورٹی فورسز نے پاکستان کی تصویر میں امن کے رنگ بھر دیئے ہیں۔