2 سال کے دوران پہلی مرتبہ تحریک انصاف کی مقبولیت میں زبردست کمی

مسلم لیگ ن 30 فیصد ریٹنگ کے ساتھ ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت بن گئی، حکمراں جماعت کو 28 فیصد ریٹنگ حاصل ہوئی

muhammad ali محمد علی منگل فروری 23:51

2 سال کے دوران پہلی مرتبہ تحریک انصاف کی مقبولیت میں زبردست کمی
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 فروری2020ء) 2 سال کے دوران پہلی مرتبہ تحریک انصاف کی مقبولیت میں زبردست کمی، مسلم لیگ ن 30 فیصد ریٹنگ کے ساتھ ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت بن گئی، حکمراں جماعت کو 28 فیصد ریٹنگ حاصل ہوئی۔ تفصیلات کے مطابق روشن پاکستان نامی نجی تنظیم کی جانب سے پاکستان کی مقبول ترین سیاسی جماعت کا فیصلہ کرنے کیلئے عوامی رائے پر مبنی تازہ ترین سروے کروایا گیا ہے۔

روشن پاکستان کی جانب سے کروائے گئے سروے میں 2 سال کے دوران پہلی مرتبہ مسلم لیگ ن حکمراں جماعت پاکستان تحریک اںصاف کو پیچھے چھوڑنے میں کامیاب ہوئی ہے۔ روشن پاکستان کے سروے کے مطابق پاکستان مسلم لیگ ن کو اس وقت عوام میں 30 عشاریہ 8 فیصد کی مقبولیت حاصل ہے۔ جبکہ حکمراں جماعت پاکستان تحریک اںصاف کو 28 عشاریہ 9 فیصد کی مقبولیت حاصل ہے۔

(جاری ہے)

ملک کی تیسری مقبول ترین جماعت پاکستان پیپلز پارٹی ہے جسے 14 فیصد کی مقبولیت حاصل ہے۔ مذہبی جماعتوں میں مولانا فضل الرحمان کی جے یو آئی ف اور خادم رضوی کی ٹی ایل پی کا مقابلہ تقریباً برابر ہے۔ روشن پاکستان کے سروے کے نتائج میں مزید بتایا گیا ہے کہ اگر آج انتخابات کا انعقاد کروایا جائے تو اس کے نتیجے میں پاکستان مسلم لیگ ن کو 106، تحریک انصاف کو 72، پیپلز پارٹی کو 53، متحدہ مجلس عمل کو 13 جبکہ ایم کیو ایم کو 10 نشستیں حاصل ہوں گی۔

ملک کے مقبول ترین رہنماوں کے سروے کے نتائج کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی مقبولیت میں 53 فیصد سے کم ہو کر 42 فیصد پر آگئی ہے۔ واضح رہے کہ روشن پاکستان نامی اس ادارے کی جانب سے گزشتہ عام انتخابات سے قبل بھی ایک سروے کروایا گیا تھا، جس کے نتائج اور عام انتخابات کے نتائج تقریباً ایک جیسے ہی تھے۔ کہا جا رہا ہے کہ حکومت کی ناقص پالیسیاں اور مہنگائی میں اضافہ تحریک انصاف کی مقبولیت میں کمی کی بڑی وجوہات ہیں۔