پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 3 ماہ کیلئے کمی کرنے کا فیصلہ

وزارت خزانہ نے پیٹرول، ڈیزل اور مٹی کے تیل کی فی لیٹر 15 روپے کی کمی کی منظوری دے دی

muhammad ali محمد علی منگل مارچ 22:03

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 3 ماہ کیلئے کمی کرنے کا فیصلہ
اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 مارچ 2020ء) پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 3 ماہ کیلئے کمی کرنے کا فیصلہ، وزارت خزانہ نے پیٹرول، ڈیزل اور مٹی کے تیل کی فی لیٹر 15 روپے کی کمی کی منظوری دے دی۔ تفصیلات کے مطابق وزارت خزانہ نے اعلان کیا ہے کہ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے اطلاق کیلئے یکم اپریل تک کا انتظار نہیں کیا جائے گا۔

وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ تمام پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اطلاق آج رات 12 بجے سے کر دیا جائے گا۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی 3 ماہ کیلئے کی جائے گی۔ بتایا گیا ہے کہ تمام پیٹرولیم مصنوعات کی فی لیٹر قیمت میں 15 روپے کی کمی کی جائے گی۔ 15روپےکی ممکنہ کمی سےپٹرول کی نئی قیمت 96روپے60پیسےہوجائےگی۔ ڈیزل کی قیمت 15روپےممکنہ کمی کےبعد107روپے25پیسےپرآ جائے گی۔

(جاری ہے)

مٹی کاتیل15 روپےممکنہ سستاہونےکےبعد77روپے 45پیسےکاہوجائے گا۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی سمری وزارت خزانہ کوارسال کر دی گئی ہے۔ وزارت خزانہ سے پٹرول،ڈیزل،مٹی کےتیل کی قیمت15روپےکم کرنےکی منظوری دینےکی سفارش کی گئی۔ وزارت خزانہ،وزیراعظم سےمنظوری کےبعد اب نئی قیمتیں فوری نافذ کر دی جائیں گی۔ اس سے قبل وزیراعظم نے منگل کے روز نے اعلان کیا کہ ہم نے مزدوروں کیلئے 200 ارب روپیہ رکھا ہے۔

دوسرا ایکسپورٹ اور انڈسٹری جو سب سے زیادہ متاثر ہورہے ہیں، ان کو فوری طور پر 100ارب کے فنڈز دیں گے۔ سمال اینڈ میڈیم انڈسٹری اور زراعت کیلئے 100ارب رکھا ہے، ان کو کم شرح سود پر قرضے بھی دیں گے۔ چوتھا سب سے مشکل حالات میں خاندانوں کیلئے 150 ارب رکھ رہے ہیں، ہرخاندان کو4 ماہ تک ماہانہ 3 ہزار روپے دیے جائیں گے، صوبے بھی مدد کریں۔ یہ فیصلہ بھی کیا کہ پناہ گاہوں کا مزید دائرہ کار بڑھا دیں گے، تاکہ بیروزگار لوگ وہاں آسکیں۔

یوٹیلٹی اسٹورز کو مزید 50 ارب دیا ہے۔ گندم خریداری کیلئے280 ارب روپیہ رکھا ہے، اب گندم کی کٹائی بھی شروع ہوگئی ہے۔ اسی طرح پٹرول اور ڈیزل مصنوعات پر15روپے فی لیٹر کم کررہے ہیں۔ 300 یونٹ تک گیس اوربجلی کے بل 3 ماہ تک قسطوں میں لیے جائیں گے۔ 100ارب روپیہ ایمرجنسی حالات کیلئے رکھا ہے۔ این ڈی ایم اے کیلئے 50 ارب روہے رکھا ہے۔