Live Updates

ڈاکٹروں اور طبی عملہ کو حفاظتی کٹس کی فراہمی بھی حکومت کی اولین ترجیح ہے،وزیر اعلیٰ بلوچستان

چمن میں دوہزار افراد کو قرنطینہ کرنے کی سہولیات تیار کی گئی ہیں،ایران سے آنے الے 1350زائرین کے کورونا ٹیسٹ کئے گئے ، 131مثبت آئے ہیں ،جام کمال خان

جمعرات مارچ 23:53

کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 26 مارچ2020ء) وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت کورونا وائرس کی روک تھام کے لئے قائم نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کے اجلاس میں بذریعہ وڈیو لنک شرکت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے بلوچستان میں کورونا وائرس کی صورتحال ، اس کی روک تھام کے لئے حکومتی اقدامات، صوبے کی ضروریات اور فوڈ سیکیورٹی کے حوالے سے صوبے کے موقف سے آگاہ کیا، وزیراعلیٰ نے بتایا کہ گذشتہ روز صوبائی ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں بلوچستان میں کورونا وائرس کے پھیلاؤکو روکنے کے لئے کئی ایک اقدامات کی منظوری دی گئی ہے جس میں لاک ڈاؤن کو مزید موثر بنانا، گندم کی خریداری، اشیاء خوردونوش کی دستیابی کے موثر اقدامات کے علاوہ تفتان اور چمن میں زائرین اور ایران وافغانستان سے آنے والے پاکستانیوں کی وائرس ٹیسٹنگ اور قرنطینہ کی سہولیات میں اضافہ بھی شامل ہے جبکہ ڈاکٹروں اور طبی عملہ کو حفاظتی کٹس کی فراہمی بھی حکومت کی اولین ترجیح ہے، انہوں نے بتایا کہ چمن میں دوہزار افراد کو قرنطینہ کرنے کی سہولیات تیار کی گئی ہیں،انہوں نے بتایا کہ اب تک ایران سے آنے والے 1350زائرین کے کورونا ٹیسٹ کئے گئے ہیں جن میں سے 131مثبت آئے ہیں اور ان میں سے 26افراد کے دوبارہ ٹیسٹ کئے جائیں گے، منفی ٹیسٹ کے حامل افراد کو گھروں میں جانے کی اجازت دے دی گئی ہے تاہم ان کی موثر نگرانی کی جارہی ہے، وزیراعلیٰ نے کہا کہ انہوں نے نصیر آباد اور سبی ڈویژن کے دورے کرکے وہاں قرنطینہ اور آئسولیشن کی سہولیات کا جائزہ لیا ہے، صوبائی حکومت کو وینٹیلیٹرز اور ٹیسٹنگ کٹس کے ساتھ ساتھ دیگر ضروری طبی سامان کے لئے وفاقی حکومت کی معاونت کی ضرورت ہے، انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں اشیائے خوردونوش کی پیداوار اور تیاری نہ ہونے کی وجہ سے صوبے کا انحصار سندھ اور پنجاب سے ان اشیاء کی آمد پر ہے لہٰذا فوڈ چین اور پٹرول کی ترسیل کو برقرار رکھنے کی لئے موثر میکنزم کی ضرورت ہے، خاص طور سے مکران اور رخشاں ڈویژن میں ایران کی سرحد بند ہونے سے تیل اور اشیائے خوردونوش کی مسلسل ترسیل کو یقینی بنانے کی بھی ضرورت ہے، وزیراعلیٰ نے کہا کہ موسم گرما کی آمد سے ملیریا اور دیگر بیماریوں کے پھیلنے کے خدشہ کے پیش نظر خصوصی طبی اقدامات ضروری ہیں جبکہ لاک ڈاؤن کے دوران اور ماہ رمضان میں لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کو بھی یقینی بنایا جانا چاہیئے تاکہ عوام خاص طور زمینداروں کو ریلیف مل سکے، وزیراعظم نے وزیراعلیٰ کی تجاویز سے اتفاق کرتے ہوئے یقین دلایا کہ اس حوالے سے وفاقی حکومت تعاون کرے گی۔

کرونا وائرس کی تباہ کاریاں سے متعلق تازہ ترین معلومات