محکمہ وائلڈ لائف حکام نے عدالت کے حکم پر نایاب نسل کے اٹھارہ ہرنوں کو تھرپارکر کے ریگستانی جنگل میں آزاد کردیے

جمعہ مئی 23:59

عمرکوٹ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 22 مئی2020ء) محکمہ وائلڈ لائف حکام نے عدالت کے حکم پر نایاب نسل کے اٹھارہ ہرنوں کو تھرپارکر کے ریگستانی جنگل میں آزاد کردیے گے عدالت نے تینوں ملزمان کو ضمانت پر رہا کرنے کا بھی حکم دیدیا صحرائے تھرپارکر کے جنگلات میں نایاب نسل کے آٹھ ہزار سے زائد ہرن موجود ہے ڈپٹی کنزرویٹر وائلڈ لائف میرپورخاص ڈویژن میر اعجاز تالپور کی میڈیا سے بات چیت تفصیلات کیمطابق عمرکوٹ پولیس نے گذشتہ روز ایک گاڑی کو جب چیکنگ کیلیے روکا تو تلاشی کیدوران گاڑی نمبر ۔

(جاری ہے)

BLL-645سے عمرکوٹ پولیس نے اٹھارہ نایاب نسل کے قیمتی ہرنوں کو برآمد کرکے تین ملزمان جن میں اویس پٹھان،ذیشان شیخ،کاشف ، کو گرفتار کرکے محکمہ وائلڈ لائف کیحوالے کردیا تھا وائلڈ حکام نے واقع کا مقدمہ درج کرکے ملزمان کو عدالت میں پیش کیا گیا جس پر عدالت نے تینوں ملزمان کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیتے ہوئے نایاب نسل کے قیمتی خوبصورت اٹھارہ ہرنوں کو صحرائے تھر کے ریگستانی جنگلات میں ہرنوں کو آزاد کرنے کا حکم دیاتھا عدالت کیاس حکم بعد محکمہ وائلڈ لائف کے ڈپٹی کنزرویٹو میرپورخاص ڈویژن میر اعجاز تالپور ،محکمہ پولیس کے ایس ایچ او سٹی خلیل کمبار اور محکمہ وائلڈ لائف کی ٹیم نے صحافیوں کی موجودگی میں نایاب نسل کے اٹھارہ ہرنوں کو صحرائے تھر کے ریگستانی جنگلات میں آزاد کردیا اس موقع پر محکمہ وائلڈ لائف کے میر اعجاز تالپور اور ایس ایچ او عمرکوٹ سٹی خلیل کمبار کا کہنا تھا کہ ہرن مور اور دیگر جانور تھرکاحسن ہے حکومتی اداروں کیساتھ عوام کو بھی تھر کیان خوبصورت جانوروں کی بقا اور تحفظ کے لیے سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا یہ امر قابل ذکر ہیکہ تھر میں آئے روز پیدرپے شکاریوں کی آمد اور ہرن کے شکار سے ہرن کی نایاب نسل کو شدید خطرات لاحق ہے ہرن کے شکاری ہرن کا شکار کرکے نایاب نسل کے قیمتی ہرن نر مادہ کی جوڑی اسی ہزار روپے سے لیکر ایک لاکھ روپے تک کی مارکیٹ میں فروخت کی جاتی ہے ستم ظریفی کی حد تو یہ ہیکہ وائلڈ لائف قوانین کمزور ہونے اور محکمہ میں سیاسی مداخلت کیباعث ملزمان قانون کے شکنجے سے باآسانی نکل جاتے ہیں

متعلقہ عنوان :