وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان کا طیارہ حادثہ میں جاں بحق ہونے والے مسافروں کے لواحقین کے ساتھ دلی تعزیت کا اظہار، حادثہ کی فوری تحقیقات کرنے اور ورثاء کو معاوضوں کی فوری ادائیگی کی ہدایت، حادثہ کا شکار ہونے والے ہر مسافر کے خاندان کے 5 افراد کو کراچی پہنچنے کے لئے ایئر ٹکٹ جاری کیے جائیں گے

ہفتہ مئی 00:45

وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان کا طیارہ حادثہ میں جاں بحق ہونے والے ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 23 مئی2020ء) وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے طیارہ حادثہ میں جاں بحق ہونے والے مسافروں کے لواحقین کے ساتھ دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے فوری طور پر حادثہ کی تحقیقات کرنے اور ورثاء کو معاوضوں کی فوری ادائیگی کرنے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے یہ ہدایت جمعہ کو ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دیں۔

اجلاس میں پی آئی اے اور سول ایوی ایشن اتھارٹی کے حکام نے کراچی سے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں سیکرٹری ایوی ایشن ڈویژن ناصر حسن جامی اور دیگر سینئر افسران، پی آئی اے اور پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کے اعلی انتظامی افسران بھی شریک تھے۔ سیکرٹری ایوی ایشن ڈویژن ناصر حسن جامی نے المناک سانحہ سے متعلق اب تک کی تفصیلات سے وفاقی وزیر کو آگاہ کیا۔

(جاری ہے)

انہوں نے بتایا کہ طیارہ حادثہ سے متعلق بورڈ کو حادثہ کی تحقیقات کا ٹاسک سونپا گیا ہے۔ پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو افسر ائر مارشل ارشد ملک نے بھی اجلاس کو المناک سانحہ سے متعلق بریفنگ دی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ طیارے کا کپتان سجاد گل اے 320 کا تجربہ کار سینئر ہوا باز تھا جو اڑان کا بھرپور تجربہ رکھتا تھا۔ حادثہ کا شکار ہونے والا طیارہ 16 سال پرانا ہے اور بہت اچھی حالت میں تھا، اسے چھ سال قبل ڈرائی لیز پر پی آئی اے کے بیڑے میں شامل کیا گیا تھا، مارچ 2020 میں اسے بڑے اے چیک میں بھی لے جایا گیا، طیارے نے کوویڈ 19 کی وجہ سے مقامی اور بین الاقوامی پروازوں کا آپریشن معطل ہونے کے دوران 21 مارچ 2020 سے 8 پروازیں کیں۔

وفاقی وزیر غلام سرور خان نے فوری بنیادوں پر ایئر کرافٹ کی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کی۔ جس کے فوری بعد وفاقی حکومت کی منظوری سے ایئر کرافٹ حادثہ تحقیقاتی بورڈ کے صدر ایئر کموڈور عثمان غنی کی سربراہی میں اعلی سطحی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔ وفاقی وزیر نے مزید ہدایت کی کہ تحقیقاتی ٹیم اپنی ابتدائی رپورٹ ایک ماہ کے اندر پیش کرے۔

انہوں نے ہدایت کی کہ حادثہ کا شکار ہونے والے ہر مسافر کے خاندان کے 5 افراد کو کراچی پہنچنے کے لئے ائر ٹکٹ جاری کیے جائیں۔ پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو افسر نے آگاہ کیا کہ بد قسمت سانحہ کے مسافروں کے اہل خانہ کے قیام کے لئے ایئرپورٹ ہوٹل دستیاب ہوگا۔ وفاقی وزیرِ نے انشورنس کمپنی کو ہدایت کی کہ فوری طور پر ورثاء کو معاوضوں کی ادائیگی کو یقینی بنائے۔ وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان سول ایوی ایشن اتھارٹی اور پی آئی اے کے ساتھ تفصیلی اجلاس کے لئے (آج) ہفتہ کو کراچی جائیں گے۔ وہ مسافروں کے لواحقین سے بھی ملاقات اور طیارہ حادثہ کے جائے وقوعہ کا بھی معائنہ کریں گے۔ وفاقی وزیر مقامی لوگوں سے بھی ملاقات اور ہفتہ کو ہی کراچی میں پریس کانفرنس بھی کریں گے۔