حادثے کے روز شہید پائلٹ روزے کی حالت میں تھے

پائلٹس کو روزہ نہ رکھنے کا کہا جاتا ہے کہ کیونکہ فلائٹ کے دوران شوگر لیول کم ہو سکتا ہے۔ترجمان پی آئی اے عبداللہ حفیظ

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان ہفتہ مئی 12:13

حادثے کے روز شہید پائلٹ روزے کی حالت میں تھے
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین -۔ 30 مئی2020ء) ترجمان پی آئی اے عبداللہ حفیظ کا کہنا ہے کہ حادثے کے روز شہید پائلٹ سجاد گل روزے کی حالت میں تھے۔انہوں نے نجی ٹی وی چینل سے گفتگو میں کہا کہ کیپٹن سجاد گل نے حادثے سے دو روز قبل ایک فلائٹ لی تھی اس کے بعد ایک دن کے وقفے کے بعد ان کی جمعہ کے روز کراچی کے لیے فلائٹ تھی۔ عبداللہ حفیظ نے مزید کہا کہ اگرچہ یہ پائلٹ کی مرضی پر منحصر ہوتا ہے کہ وہ روزہ رکھے یا نہ رکھے تاہم پائلٹس کو روزہ نہ رکھنے کا کہا جاتا ہے کیونکہ فلائٹ کے دوران شوگر لیول کم ہو سکتا ہے۔

کیپٹن سجاد گل کے گھر والوں نے بتایا کہ جمعہ کے روز انہوں نے روزہ رکھا۔سجاد گل کو شوگر سمیت کوئی بیماری تاحال رپورٹ نہیں ہوئی۔انہوں نے مزید کہا کہ چونکہ مختصر دورانیے کی فلائٹ تھی اس لیے پائلٹ نے سوچا کہ روزہ رکھنے کا سفر پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

(جاری ہے)

عام طور پر پائلٹس فلائٹ کے دوران روزہ نہیں رکھتے۔

دوسری جانب کراچی میں ہونے والے طیارہ حادثے کی تحقیقاتی ٹیم میں ماہرین طب اور نفسیات کی شمولیت کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

تحقیقاتی ٹیم میں شامل ہونے والے ماہرین طب اور نفسیات متاثرہ جہاز کے پائلٹ کی طبی اور نفسیاتی کیفیت کی ہسٹری کا جائزہ لیں گے جبکہ پائلٹ کے اہلخانہ کی صحت سے متعلق معلومات بھی اکٹھی کی جائیگی۔ وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے تحقیقاتی ٹیم میں ڈاکٹروں کی شمولیت کی تصدیق کی ہے۔ انھوں نے بتایا ہے کہ پائلٹ کے اہلخانہ سے تفصیلات حاصل کی جائیں گی کہ شہید پائلٹ گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں کسی ذہنی تناؤ کا شکار تو نہیں ہوا تھا ۔تحقیقاتی ٹیم نے میڈیکل اور نفسیاتی ڈاکٹرز کو تحقیقاتی ٹیم میں شامل کرنے سے متعلق آگاہ کیا جبکہ پائلٹ اور کنٹرول ٹاور اسٹاف کی میڈیکل ہسٹری بھی طلب کرلی ہے۔