اوپن یونیورسٹی کی سپریم باڈی نے سالانہ بجٹ کی منظوری دے دی

بجٹ کا زیادہ تر فوکس یونیورسٹی کی ترقیاتی کاموں ،ْ ملازمین اور طلبہ کی سہولتوں میں اضافے پر رکھا گیا ہے

پیر جون 23:10

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 29 جون2020ء) علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کی سپریم باڈی )ایگزیکٹیو کونسل(نے گذشتہ روز وائس چانسلر ،ْ پروفیسر ڈاکٹر ضیاء القیوم کی زیر صدارت منعقدہ اپنی 117۔ویں اجلاس میں یونیورسٹی کے سالانہ بجٹ برائے سال(2020-21) کی منظوری دے دی ہے۔اِس بجٹ کا زیادہ تر فوکس یونیورسٹی کی ترقیاتی کاموں ،ْ ملازمین اور طلبہ کی سہولتوں میں اضافے پر رکھا گیا ہے۔

اجلاس میںاتفاق رائے سے جن ایجنڈا آئٹمز کی منظوری دی ہے ،ْ اُن میںترقیاتی کاموں کے لئے انڈونمنٹ فنڈ کا قیام ،ْ علاقائی دفاتر کو کرایہ کی مکانوں سے اپنی بلنڈنگزمیں منتقل کرانا ،ْ پسماندہ اور دور دراز علاقوں میں تعلیمی نیٹ میں توسیع کے لئے سرکاری حکام اور مخیر شخصیات سے پلاٹس بطور عطیہ وصول کرنے کے لئے کوششیں کرنا شامل ہیں ۔

(جاری ہے)

یونیورسٹی مورو )سندھ(،ْ سکھر اور مظفر آباد میں ریجنل سینٹرز کی اپنی بلڈنگز کی تعمیر کے لئے پلاٹس بطور عطیہ حاصل کرچکی ہیں اور یہاں پر بلڈنگز کی تعمیر کا کام شروع کردیا گیا ہے۔

ڈاکٹر ضیاء القیوم نے مزید بتایا کہ یونیورسٹی ملک کے چار محروم طبقات)ہر قسم کی معذوری میں مبتلا افراد ،ْ خواجہ سراء ،ْ جیلوں میں مقید افراد اور ڈراپ آئوٹ گرلز(کو مفت تعلیم فراہم کررہی ہے ،ْ بجٹ 2020-21ء میں اِس کام کے لئے مختص بجٹ میں اضافہ کیا گیا ہے۔ایجنڈا آٹمز جن کی منظوری دے دی گئی ہے کے دیگز چیزوں میںیونیورسٹی کے ملازمین کی سیکنڈ شفٹ میں اضافہ ،ْ لاک ڈائون کے باعث سکولز بند ہیں ،ْ اس لئے رہائشی کالونی کے بچوں کے سکولزکی پیک اینڈ ڈراپ کے چارجزکی کٹوتی یکم اپریل سے تاحکم ثانی روک دی گئی ہے ۔

وائس چانسلر نے اجلاس کواس بات سے بھی آگاہ کیا کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن نے دیگر جامعات کو ریکرننگ بجٹ کا40-50فیصد گرانٹ دیا جبکہ ہمیں 4-5فیصد گرانٹ دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایچ ای سی نے یونیورسٹی کو 410ملین گرانٹ کا وعدہ کیا تھا جبکہ موجودہ بجٹ میں یونیورسٹی کو صرف 20ملین گرانٹ مہیا کی گئی جو ہمارے ریکریننگ بجٹ کے ایک فیصد سے بھی کم ہے ۔