ظلم کی انتہاء! سندھ میں نوجوان لڑکی کو مبینہ طور پر سنگسار کر دیا گیا

لڑکی مبینہ طور پر پتھروں اور ڈنڈوں کے وار کر کے قتل کر دی گئی، مسخ شدہ لاش سڑک کنارے سے برآمد

muhammad ali محمد علی ہفتہ جولائی 23:32

ظلم کی انتہاء! سندھ میں نوجوان لڑکی کو مبینہ طور پر سنگسار کر دیا گیا
جامشورو (اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔4جولائی 2020ء ) ظلم کی انتہاء! سندھ میں نوجوان لڑکی کو مبینہ طور پر سنگسار کر دیا گیا، لڑکی مبینہ طور پر پتھروں اور ڈنڈوں کے وار کر کے قتل کر دی گئی، مسخ شدہ لاش سڑک کنارے سے برآمد۔ بتایا گیا ہے کہ وزیراعظم سندھ مراد علی کے ضلع جامشورو میں ایک نوجوان لڑکی کو مبینہ طور پر سنگسار کر دیا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ دیہاتی علاقے سے تعلق رکھنے والی ایک 24 سالہ وزیراں نامی لڑکی کی مسخ شدہ لاش ہائی وے کے کنارے سے برآمد ہوئی۔

لڑکی کو خوفناک تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کیا گیا۔ پولیس کا بتانا ہے کہ لاش کا معائنہ کروانے پر معلوم ہوا کہ لڑکی کے جسم پر نشانات بھی موجود تھے۔ جس علاقے سے لڑکی کی لاش ملی، اس علاقے کے لوگوں نے دعویٰ کیا ہے کہ لڑکی کو سنگسار کر کے قتل کیا گیا۔

(جاری ہے)

پولیس کے مطابق لڑکی کو مبینہ طور پر پتھر اور ڈنڈے مار کر قتل کیا گیا اور پھر اُس کی لاش کو سڑک کنارے پھینک دیا گیا۔

لڑکی کے قتل کے حوالے سے اس کے اہل خانہ اور سسرال والوں دونوں کی جانب سے ایک دوسرے پر الزامات لگائے گئے ہیں۔ پولیس کو دیے گئے بیان میں والد نے پہلے بیٹی کی موت کی وجہ حادثہ قرار دی، بعد ازاں مقتولہ کے شوہر اور سسرال والوں پر قتل کا الزام عائد کر کے مقدمہ درج کرا دیا۔ درج مقدمے میں لڑکی کے شوہر اور دیور کو نامزد کیا گیا ہے۔ جبکہ دوسری جانب مقتولہ کے شوہر نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ لڑکی کا والد اپنی بیٹی کی شادی ہمارے خاندان میں نہیں کرنا چاہتا تھا۔

وزیراں کو میں نے نہیں بلکہ اُس کے گھر والوں نے تشدد کر کے قتل کیا۔ پولیس کی جانب سے واقعے کی تحقیقات کی جا رہی ہے۔ جبکہ وزیراعلیٰ سندھ سے واقعے کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ انسانی حقوق تنظیموں کا مطالبہ ہے کہ اس گھناونے جرم میں ملوث افراد کو قانون کی گرفت میں لایا جائے۔