فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے گزشتہ مالی سال کے دوران نظرثانی شدہ ہدف سے 82 ارب اضافی محصولات حاصل کئے

ایف بی آر نے نے مالی سال 2019-20ء میں ریونیو کی مد میں 3989 ارب اکٹھے کئے جو مالی سال کے نظر ثانی شدہ ہدف 3907 ارب روپے کے ہدف سے 82 ارب زیادہ ہے، مالی سال 2018-19 میں حاصل کردہ نیٹ ریونیو 3826 ارب رہا

اتوار جولائی 00:03

فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے گزشتہ مالی سال کے دوران نظرثانی شدہ ہدف سے ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 جولائی2020ء) فیڈرل بورڈ آف ریونیو( ایف بی آر) نے گزشتہ مالی سال کے دوران نظرثانی شدہ ہدف سے 82 ارب اضافی محصولات حاصل کئے ہیں۔ ایف بی آر کے ترجمان نے جاری بیان میں کہاہے کہ گزشتہ مالی سال کیلئے ایف بی آر نے اپنے ریونیو اہداف حاصل کر لئے ہیں۔ ایف بی آر نے نے مالی سال 2019-20ء میں ریونیو کی مد میں 3989 ارب اکٹھے کئے جو کہ مالی سال کے نظر ثانی شدہ ہدف 3907 ارب روپے کے ہدف سے 82 ارب زیادہ ہے جبکہ مالی سال 2018-19 میں حاصل کردہ نیٹ ریونیو 3826 ارب رہا تھا۔

پچھلے مالی سال 2018-19 میں 3895 ارب گراس ریوینیو حاصل ہوا تھا جبکہ اس سال تاریخ میں پہلی دفعہ یہ رقم چار کھرب کی حد کو عبور کرکے 4123 ارب تک پہنچ گئی ہے۔ترجمان نے کہاکہ کرونا وبا کے باوجود انکم ٹیکس میں شرح نمو 5 فی صد ، سیلز ٹیکس میں 9 فی صد ، ایکسائز ڈیوٹی میں 7 فی صد اور کسٹمز میں منفی 4۔

(جاری ہے)

8 فی صد رہی۔ اس سال ایف بی آر نے 235 ارب روپے کے ریفنڈ بھی ادا کئے جو پچھلے سال ادا کئے جانے والے 69 ارب کے مقابلے 340فی صد زیادہ ہے ۔

ترجمان نے بتایا کہ کسٹمز ڈیوٹی میں کمی کی بنیادی وجہ غیر ضروری درآمدات میں کمی کی دانستہ کوشش ہے جس سے کرنٹ اکاونٹ کے خسارے پر قابو پایا گیا ہے۔ اس کمی کا محاصل پر براہ راست 700 ارب روپے کا اثر آیا جس کی وجہ سے دسمبر میں ایف بی آر کا ہدف 5505 ارب سے کم کرکے 4803 ارب روپے کردیا گیا تھا۔ فروری تک ڈومیسٹک ٹیکسوں کی نمو 27 فی صد کے حساب سے ہورہی تھی اور امید تھی کہ 4803 ارب روپے کا ہدف باآسانی حاصل ہو سکے گا۔

کرونا لاک ڈاون کے باعث اس ہدف کو مزید کم کرکے 3907 ارب روپے کیا گیا جو ایف بی آر کے افسران اور عملے نے نامساعد حالات کے باوجود حاصل کر لیا۔ ترجمان نے مزید وضاحت کی ہے کہ حاصل کردہ ریوینیوکے یہ ابتدائی اعدادو شمار ہیں حتمی ریوینیو کے اعدادوشمارمیں بک ایڈجسٹمنٹ، فارم 32A، فیڈرل ٹریڑری اور نیشنل بینک کی آف لائن برانچز سے وصولیوں کے بعد مزید اضافہ متوقع ہے ۔ واضح رہے کہ اس سال کرونا کے باعث ایف بی آر کے تیس سے زائد افراد انتقال کر چکے ہیں جس میں گریڈ 22 کے محمد زاہد کھوکھر بھی شامل ہیں۔ان تمام خطرات کے باوجود ایف بی آر کے تمام اہلکار جانفشانی اور تندہی سے اپنے فرائض انجام دیتے رہے ہیں۔

متعلقہ عنوان :