سپریم کورٹ رجسٹری نے اینکر مرید عباس قتل کیس کے اہم ملزم عادل زمان کی ضمانت منسوخی سے متعلق تفصیلی فیصلہ جاری کردیا

عادل زمان اورخضر حیات قتل کی واردات کے وقت عاطف زمان کے ساتھ تھا ملزم کو گواہوں نے شناخت پریڈ کے دوران شناخت بھی کرلیا تھا، سپریم کورٹ

جمعہ ستمبر 16:47

سپریم کورٹ رجسٹری نے اینکر مرید عباس قتل کیس کے اہم ملزم عادل زمان کی ..
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 18 ستمبر2020ء) سپریم کورٹ رجسٹری نے اینکر مرید عباس قتل کیس کے اہم ملزم عادل زمان کی ضمانت منسوخی سے متعلق تفصیلی فیصلہ جاری کردیا،سپریم کورٹ نے کہا کہ عادل زمان خضر حیات اور مرید عباس کے قتل کی واردات کے وقت عاطف زمان کے ساتھ تھا ملزم کو گواہوں نے شناخت پریڈ کے دوران شناخت بھی کرلیا تھا۔تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ رجسٹری نے اینکر مرید عباس قتل کیس کے اہم ملزم عادل زمان کی ضمانت منسوخی سے متعلق تفصیلی فیصلہ جاری کردیاہے، عدالت نے اپنے تحریری حکم نامے میں کہا ہے کہ عینی شاہدین عمر ریحان اور اسامہ کے مطابق عادل زمان موقع پر موجود تھا، عادل زمان، خضر حیات اور مرید عباس کے قتل کی واردات کے وقت عاطف زمان کے ساتھ تھا ملزم کو گواہوں نے شناخت پریڈ کے دوران شناخت بھی کرلیا تھا، سپریم کورٹ نے کہا کہ دستاویزات سے ثابت ہوتا ہے کہ واردات میں اسلحہ بھی عادل زمان کا استعمال ہوا دستیاب شواہد عادل زمان کو عاطف زمان کا شریک ملزم ثابت کرنے کیلئے کافی ہیں،ضمانت پر رہائی کا ناجائز استعمال کرنا الگ معاملہ ہے اور ملزم کے خلاف ٹھوس شواہد ہونا الگ معاملہ ۔

(جاری ہے)

عادل زمان کے خلاف تسلیم شدہ حقائق بیان کیئے گئے اگر تسلیم شدہ حقائق کو نظر انداز کرکے غیر متعلق بنیاد پر ضمانت منظور کی جائے تو اعلی عدالت کا ضمانت منسوخ کرنے کا حکم بلا جواز نہیں ہوگا،عدالت نے اپنے حکم نامے میں مزید کہا کہ سندھ ہائیکورٹ کی آبزرویشن دستیاب شواہد سے مطابقت نہیں رکھتی ہائیکورٹ نے ضمانت دیتے ہوئے کئی اہم شواہد اور حقائق کو نظر انداز کیا ہے، سندھ ہائیکورٹ کا عادل زمان کی ضمانت کا حکم کالعدم قرار دیا جاتا ہے،سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ کو آزادانہ ٹرائل کرکے کیس کا فیصلہ سنانے کی ہدایت کی ہے۔