موٹر وے زیادتی کیس ، پولیس اور عدالتی نظام میں بڑی تبدیلی کا مطالبہ سامنے آگیا

ہمیں چھتر کی جگہ آج کی سائنسی تکنیکس اپنانا ہوں گی ، تفتیش کے نام پر وہی ’اوئے ، چھتر اٹھا لو ، الٹا لٹکاؤ اور مار دو‘ ختم کرنا ہوگا ، تجزیہ کار جاوید چوہدری

Sajid Ali ساجد علی اتوار ستمبر 17:36

موٹر وے زیادتی کیس ، پولیس اور عدالتی نظام میں بڑی تبدیلی کا مطالبہ ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 ستمبر2020ء) موٹر وے زیادتی کیس کے بعد جہاں مرزکی ملزم عابد کی گرفتاری اور سزا کیلئے مختلف مطالبات کیے گئے ، وہیں پاکستان کی پولیس اور عدالتی نظام پر بھی کئی قسم کے سوالات اٹھائے جاتے ہیں ، یہی وجہ ہے کہ نظام میں بڑی تبدیلی کا مطالبہ بھی سامنے آگیا ۔ معروف تجزیہ کار اور کالم نگار جاوید چوہدری نے لکھا ہے کہ ہم اگر ملک میں واقعی جرائم کنٹرول کرنا چاہتے ہیں تو پھر ہمیں ماڈرن پولیسنگ پر جانا ہوگا ، ہمیں چھتر کی جگہ آج کی سائنسی تکنیکس اپنانا ہوں گی ، ہماری پولیس آج بھی 1865ء میں زندگی گزار رہی ہے ، آج بھی تفتیش کے نام پر وہی ’اوئے‘ چھتر اٹھا لو‘ الٹا لٹکاؤ اور مار دو‘ چل رہی ہے ، پوری دنیا میں تفتیش موبائل فون ڈیٹا‘ سی سی ٹی وی کیمروں‘ فیس ریڈنگ‘ سافٹ ویئرز‘ فرانزک ٹیسٹ اور سائنٹیفک اینالیسز پر چلی گئی ہے ،  سی آئی اے امریکا میں بیٹھ کر ایبٹ آباد میں چھپے اسامہ بن لادن اور پاک افغان سرحد پر موجود ملا اختر منصور کو تلاش کر لیتی ہے جب کہ ہم آج بھی ملزم عابد علی تک پہنچنے کے لیے اس کی بیٹی اور وقار الحسن کو گرفتار کرنے کے لیے اس کی بہن کو تھانے میں بند کر دیتے ہیں اور ہم آج بھی کھوجی اکٹھے کرتے رہتے ہیں ۔

(جاری ہے)

 تجزیہ کار جاوید چوہدری نے اپنے کالم میں نشاندہی کرتے ہوئے لکھا کہ ایک اور اہم چیز ہمارا جسٹس سسٹم ہے ، ہمیں ماننا ہوگا ہمارا جسٹس سسٹم ظالم کو نہیں مظلوم کو مارتا ہے ، ظالم بڑے آرام سے اس سے نکل جاتا ہے جب کہ مظلوم مزید ذلیل ہو کر رہ جاتا ہے‘ دنیا کے تمام جدید ملکوں میں قتل‘ آبروریزی اور ڈکیتی ریاست کے خلاف جرم ہوتی ہے‘ ان میں مظلوم مدعی نہیں ہوتا ریاست مدعی ہوتی ہے جب کہ ہم یہ بوجھ بھی مظلوم پر ڈال دیتے ہیں چناں چہ ملزم مظلوم کو دبا کر صلح کر لیتا ہے یا خرید لیتا ہے یا پھر مدعی عدالتوں کے چکر لگا لگا کر ہمت ہار جاتا ہے اور یوں ملزم رہا ہو جاتے ہیں۔