چین بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے ذریعے چارٹریلین ڈالرخرچ کرے گا: میاں زاہدحسین

امریکہ اور چین کی تجارتی جنگ نے عالمگیریت کے سا بقہ تصور پر کاری ضرب لگائی ہے

بدھ ستمبر 18:10

چین بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے ذریعے چارٹریلین ڈالرخرچ کرے گا: میاں زاہدحسین
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 ستمبر2020ء) پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ کرونا وائرس سے عالمگیریت کو شدید خطرات لاحق ہیں۔2008 کے عالمی معاشی بحران اور امریکہ و چین کے مابین تجارتی جنگ نے گلوبلائیزیشن کے سا بقہ تصورکی بنیادیں ہلا دی ہیں جبکہ کرونا وائرس رہی سہی کسر پوری کر رہا ہے۔

عالمگیریت کے متعلق رائے عامہ بدل رہی ہے، امریکہ اپنا کردار ادا کرنے کی معاشی پوزیشن میں نہیں ہے جبکہ چین اپنے مفادات کے لئے ہر حد تک جانے کو تیار ہے جس سے مستقبل میں فری ٹریڈ ایک خواب ثابت ہو سکتا ہے۔ میاں زاہد حسین نے بزنس کمیونٹی سے گفتگو میں کہا کہ اب بہت سے ملکوں نے لاک ڈاؤن ختم کر دیا ہے یا نرمی کر دی ہے جس سے تجارتی سرگرمیاں بحال ہو رہی ہیں مگر افراد،اشیاء ، سرمایہ اور انفارمیشن کا بہاؤ پہلے جیسا آزادانہ نہیں ہے جس سے عالمی تجارت تیزی سے سکڑ رہی ہے۔

(جاری ہے)

امریکہ و دیگر ممالک میں سرمایہ کاری اور روزگار کے لئے نقل مکانی کی مزید حوصلہ شکنی کے لئے اقدامات جاری ہیں اور بہت سے بڑی کمپنیوں پر اپنا تمام کاروبار امریکہ میں ہی منتقل کرنے کے لئے دباؤڈالا جا رہا ہے تاکہ مقامی افراد کو زیادہ نوکریاں مل سکیں۔ کئی یورپی ممالک بھی انہی خطوط پر سوچ رہے ہیں ، جاپان کی حکومت نے اپنی کمپنیوں کو چین سے نکلنے کی ہدایت کر دی ہے جبکہ بھارت چین سے نکلنے والی ایک ہزار کمپنیوں پر نظریں جمائے بیٹھا ہے۔

جوابی کاروائی کے طور پرچین نے بھی امریکہ میں سرمایہ کاری کم کر دی ہے جس میں مزید کمی متوقع ہے۔ان اقدامات سے پیدا ہونے والی عالمی صورتحال میں ترقی پذیر ممالک کی غربت سے نکلنے کی کوششیں متاثر ہونگی جبکہ امیر ممالک میں ضروریات زندگی سمیت تقریباً تمام اشیاء مہنگی ہو جائیں گے۔دنیا کے متعدد ممالک کے مابین دوریاں بڑھ جائیں گی، نیشنل ازم پروٹیکشن ازم اور تنازعات بڑھ جائیں گے، دنیا میں عدم استحکام مزید بڑھے گا اور تمام ممالک میں مل جل کر عالمی مسائل حل کرنے کا نظام کمزور ہو جائے گا۔

مستقبل میں بہت سے ممالک صرف انہی سے تجارت کریں گے اور انکے شہریوں کو نقل مکانی کی اجازت دینگے جہاں صحت کا معیار اور قوانین ان سے مماثلت رکھتے ہیں۔میاں زاہد حسین نے مزید کہا کہ چین بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے ذریعے4ٹریلین ڈالر خرچ کریگا جس پر138ممالک دستخط کر چکے ہیں ۔پاکستان کی حکومت، پالیسی سازوں اور کاروباری برادری کوچاہئے کہ چینی سرما یہ کاری کے نتیجے میں نئی آنے والی معاشی سرگرمیوں سے بننے والے مواقعوں سے بھرپور فائدہ اٹھائیں تاکہ خود کو بین الا قوامی منڈیوں میں ایڈجسٹ کیا جا سکے اورعالمی منڈیوں سے بھرپور فوائد سمیٹے جا سکیں۔