وزارت صنعت و پیداوار کے محکمہ پٹاک میں بااثر آفیسر کی جانب سے دو بھائیوں سمیت دیگر 30سے زائد عزیزو آقارب بھرتی

ماہانہ لاکھوں روپے مراعات اور تنخوائو ںکی مد ملک کو لوٹنے کا انکشاف، دو بھائیوں کو جعلی ڈومیسائل پر گریڈ 17میں بھی بھرتی کروا لیا گیا ایف آئی اے،ڈپٹی کمشنر اور دیگر فورمز پر ابتدائی انکوائری شروع کروڑوں کے پلاٹس و فیلٹس کو انکوائری میں چارج شیٹ کر دیا گیا

بدھ ستمبر 23:24

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 23 ستمبر2020ء) وزارت صنعت و پیداوار کے محکمہ پٹاک میںایک بااثر آفیسر نے اپنے دو بھائیوں سمیت دیگر 30سے زائد عزیزو آقارب بھرتی کر کے ماہانہ لاکھوں روپے مراعات اور تنخوائو ںکی مد ملک کو لوٹنے کا انکشاف ہوا ہے ،دو بھائیوں کو جعلی ڈومیسائل پر گریڈ 17میں بھی بھرتی کروا لیا گیا،ایف آئی اے،ڈپٹی کمشنر اور دیگر فورمز پر ابتدائی انکوائری شروع کر دی گئی،کروڑوں روپے کے پلاٹس و فیلٹس کو انکوائری میں چارج شیٹ کر دیا گیا۔

ذرائع کے مطابق وزارت صنعت و پیداوار کے ذیلی ادارے پٹاک کے اعلی آفیسر محمد عرفان نے اینٹی کرپشن اور ایف آئی اے کی آنکھوں میں دھول جھونک کر عرصہ دراز سے پٹاک کے اندر اپنی مان مانی کرتے ہوئے حکومتی خزانے کو نقصان پہنچا یا ہے، اپنے دو بھائیوں سمیت دیگر 30سے زائد عزیزو آقارب بھرتی کر کے ماہانہ لاکھوں روپے مراعات اور تنخوائو ںکی مد ملک کو لوٹنے کا انکشاف ہوا ہے ۔

(جاری ہے)

مبینہ طور پر اعلی آفیسران نے محکمہ پٹاک میں فیک ڈومیسائل اور خلاف میرٹ اپنے بھائیوں اور درجنوں قریبی رشتہ داروں کی بھرتیوں سے محکمہ کی ساکھ بری طرح متاثر ہو ئی ہے ۔ محکمہ کے اندر تمام رشتہ دار ایک بڑے مافیا کی شکل اختیار کر چکے ہیں زرائع کے مطابق ایس ایم او پٹاک محمد عرفان نے اپنے بھائیوں کو پٹاک زونل آفیس کوئٹہ میں بھرتی کرانے کے لئے جعلی پوسٹ تخلیق کی اورجعلی ڈومیسائل پر تقرریاں کروائی حالانکہ یہ آسامی آواز حقوق بلوچستان تحریک کے تحت بلوچستان کے مقامی افراد کے لئے تخلیق کی گئی تھی جس پر کوئٹہ کے مقامی افراد نے محکمہ پٹاک کے خلاف کیس بھی دائر کر رکھا ہے۔

ز رائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ یہ پوسٹ کچھ عرصہ بعد منسوخ کر کے ایس ایم او پٹاک نے اپنے بھائی کی لاہور پوسٹنگ کر دی اور اٹھارویں گریڈ میں ترقیابی دے کرڈائریکٹر مارکیٹنگ کی کرسی پر بٹھا دیا۔اعلی عہدوں پر تعینات ایک ہی گھر تین تین افراد اور درجنوں قریبی رشتہ داروں کی تقرریوں پر محکمہ اینٹی کرپشن اور ایف آئی اے نے نوٹس لے کر انکوائری شروع کر دی ہے اور ابتدائی انکوائری شروع کر دی گئی،کروڑوں روپے کے پلاٹس و فیلٹس کو انکوائری میں چارج شیٹ کر دیا گیاجبکہ محکمہ سے ہمارے زرائع کے مطابق ڈپٹی کمشنر لاہور نے بھی محکمہ پٹاک کے بڑے عہدے پر براجمان محمد عرفان اور ان کے بھائیوں کے ڈومیسائل کے حوالے سے انکوائری شروع کر رکھی ہے۔

زرائع کے مطابق محکمہ ×کے اندر کئی شعبوں میں بڑے پیمانے پر کرپشن کی گئی ہے جن کی تفصیل وزیر اعظم کے شکایت پورٹل پر موجود ہیں محکمہ کے دیگر آفیسران نے خرید و فروخت اورفنانشل معاملات میں خرد برد اور کرپشن کر کے ملکی خزانے کو بری طرح نقصان پہنچایا ہی