دہلی فسادات کی چارج شیٹ میں سلمان خورشید کا نام بھی شامل

سابق وزیر خارجہ سلمان خورشید اور سپریم کورٹ وکیل پرشانت بھوشن پر دہلی میں فرقہ وارانہ فسادات کے دوران اشتعال انگیزی کے ذریعے لوگوں کو اکسانے کا الزام عائد کیا گیا

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان جمعرات ستمبر 16:06

دہلی فسادات کی چارج شیٹ میں سلمان خورشید کا نام بھی شامل
دہلی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - 24 ستمبر2020ء) دہلی پولیس نے بھارتی دارالحکومت دہلی میں فروری میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات سے متعلق چارج شیٹ جاری کی ہے جس میں کئی اہم شخصیات کے نام شامل ہیں جن میں سابق مرکزی وزیر سلمان خورشید کا نام بھی شامل کیا گیا ہے۔تفصیلات کے مطبق بھارتی پولیس نے دہلی فسادات سے متعلق عدالت میں تازہ ترین چارج شیٹ پیش کی ہے۔

چارج شیٹ میں سیاستدانوں سے لے کر وکلاء اور کارکنوں تک مختلف اہم شخصیات کے نام سامنے آئے ہیں۔ اس میں کانگریس کے رہنما سلمان خورشید اورسپریم کورٹ کے وکیل پرشانت بھوشن کا نام بھی شامل ہے۔سلمان خورشید پر اشتعال انگیزی تقاریر کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ چارج شیٹ میں سابق رکن پارلیمان برنداکرات،سیتا رام پچوری، سماجی کارکن یوگیدو ،گوہر رضا ، سی پی آئی پولٹ بیورو کی رکن کویتا کرشن ،جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے سابق سٹوڈنٹ لیڈر عمر خالد سمیت کئی اہم شخصیات کے نام بھی شامل ہیں جن پر اشتعال انگیز تقریر کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

(جاری ہے)

یہ چارج شیٹ 17000 صفحات پر مشتمل ہے جس میں کہا گیا کہ ایک وعدہ معاف گواہ نے مجسٹریٹ کے سامنے گواہی دیتے ہوئے کہا کہ عمر خالد،سلمان خورشید نے دہلی میں شہری ترمیمی قانون کے خلاف مظاہروں کے دوران اشتعال انگیزی تقاریر کیں اور لوگوں کو اکسایا۔دہلی پولیس کے مطابق گواہی دینے والا شخص مظاہرے منعقد کرنے والی بنیادی ٹیم کا رکن تھا۔کانگریسی رہنما نے ان الزامات پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ دہلی پولیس نے کوڑا جمع کیا ،اس پر میں کیا کہہ سکتا ہوں۔

انہوں نے کوڑا جمع کیا جس کو وہ چارج شیٹ کہہ رہے ہیں۔سلمان خورشید نے مزید کہا کہ ممکن ہے دہلی پولیس کو اپنا کام کرنا آتا ہی نہ ہو۔ان کو کام کرنے کا طریقہ اور سلیقہ ہی نہیں۔دہلی پولیس براہ راست مرکزی وزارت داخلہ کے تحت کام کرتی ہے۔واضح رہے کہ بھارت کی اپوزیشن جماعت کانگریس کے سینئر رہنما سلمان خورشید نے بھارت میں جاری متنازع شہریت قانون کے خلاف احتجاج کے دوران ایک چھوٹے بچے کے ساتھ بھارت میں آزادی کے نعرے لگادیے جس کی ویڈیو منظرِ عام پر آئی تھی۔

بھارتی میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارت کی جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی کے احاطے میں متنازع شہریت قانون کے خلاف احتجاج کے دوران ایک ویڈیو منظرِ عام پر آئی جس میں ایک چھوٹا بچہ بھارت میں آزادی کے نعرے لگا رہا ہے اور بھارتی کانگریس کے سینئر رہنما سلمان خورشید بھی اٴْس بچے کے ساتھ آزادی کے نعرے لگاتے نظر آرہے ہیں۔خیال رہے کہ دہلی فسادات میں کم از کم 53 افراد ہلاک اور 200 کے قریب زخمی ہوگئے تھے۔