بلوچستان ہائی کورٹ نے عبدالرزاق رند کی جانب سے سزا کے خلاف دائر اپیل مسترد کر دی

جمعرات ستمبر 17:21

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 ستمبر2020ء) بلوچستان ہائی کورٹ نے عبدالرزاق رند کی جانب سے سزا کے خلاف دائر کی گئی اپیل مسترد کر دی۔ نیب اعلامیہ کے مطابق ملزم عبدالرزاق رند کو مجرم ثابت ہونے پر تین سال قید بامشقت اور 8 لاکھ روپے جرمانہ کی سزا سنائی گئی جبکہ ملزم کو جرمانہ کی عدم ادائیگی کی صورت میں مزید 6 ماہ کی سزا کاٹنا ہو گی۔

اسی طرح ملزمان عبدالنبی (نبی بخش) اور محمد جعفر کو 2، 2 سال قید بامشقت اور 80، 80 ہزار جرمانہ کی سزا سنائی جبکہ جرمانہ کی عدم ادائیگی کی صورت میں ملزمان کو مزید 6 ماہ سزا کاٹنا ہو گی۔ نیب آرڈیننس 1999ء کے تحت مذکورہ ملزمان 10 سال کیلئے نااہل بھی ہوں گے۔ نیب بلوچستان نے عبدالرزاق رند اور دیگر کے خلاف ریفرنس نمبر 5/2008 دائر کیا۔

(جاری ہے)

ملزم عبدالرزاق رند نے صدر آل پاکستان کلرک ایسوسی ایشن ڈیرہ مراد جمالی کے طور پر 19 مارچ 2002ء میں دیگر ملزموں نبی بخش اور محمد جعفر نے تحصیلدار اور پٹواری ڈیرہ مراد جمالی سے ملی بھگت کرکے مبینہ طور پر آل پاکستان کلرک ایسوسی ایشن نصیر آباد کی پانچ ایکڑ اراضی سابق رکن صوبائی اسمبلی صادق علی عمرانی کو بہت کم قیمت پر غیر قانونی طور پر فروخت کی۔

حکومت بلوچستان نے 25 ستمبر 1997ء میں 82 ایکڑ اور 18 ایکڑ اراضی آل پاکستان کلرک ایسوسی ایشن ضلع نصیر آباد کو کلرک ایسوسی ایشن کیلئے منتقل کی۔ تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ ملزم عبدالرزاق رند نے میوٹیشن نمبر 1412 کے ذریعے سابق رکن صوبائی اسمبلی صادق علی عمرانی کو خسرہ نمبر 174 موضع جدار تحصیل ڈیرہ مراد جمالی میں پانچ مرلہ اراضی 19 مارچ 2002ء میں ریونیو عملہ کی ملی بھگت سے صرف 6 ہزار روپے کے عوض فروخت کی۔ اس وقت اس زمین کی مالیت 8 لاکھ روپے تھی جب یہ ریفرنس دائر کیا گیا تو اس کی مالیت 18 لاکھ روپے تھی۔