بڑھتے ہوئے تنازعات مسلم دنیا کو دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں، او آئی سی کو امن و استحکام اور تنازعات کے حل کے حوالے سے اپنے کردار کو مستحکم بنانا ہو گا،

اب او آئی سی کو قابض قوتوں کے خلاف دباؤ بڑھانے کے لئے عملی اقدامات کرنا ہوں گے، مسلم ریاستوں کی امیدیں اور توقعات اس فورم سے وابستہ ہیں، ہمیں یقین ہے کہ او آئی سی مظلوم کشمیریوں کی آواز کو ناصرف عالمی سطح پر اٹھاتی رہے گی بلکہ ان کے جائز مقصد کے حصول کے لیے بھرپور معاونت بھی کریگی وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا او آئی سی کی گولڈن جوبلی کے حوالے سے ویبینار سے خطاب

جمعرات ستمبر 23:16

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 ستمبر2020ء) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ بڑھتے ہوئے تنازعات مسلم دنیا کو دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں، او آئی سی کو امن و استحکام اور تنازعات کے حل کے حوالے سے اپنے کردار کو مستحکم بنانا ہو گا۔ کشمیر اور فلسطین کے حوالے سے بیانات قابلِ ستائش لیکن اب او آئی سی کو قابض قوتوں کے خلاف دباؤ بڑھانے کے لئے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔

جمعرات کو او آئی سی کی گولڈن جوبلی کے حوالے سے انسٹیٹیوٹ آف اسٹریٹیجک اسٹڈیز اسلام آباد میں منعقدہ ویبینار سے بذریعہ ویڈیو لنک خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ او آئی سی کا وجود دراصل مسلم امہ میں یکجہتی کے سنہرے اصول کی تجسیم ہے۔ مسلم ریاستوں کی امیدیں اور توقعات اس فورم سے وابستہ ہیں۔

(جاری ہے)

او آئی سی آج ڈیڑھ ارب آبادی پر مشتمل، ستاون ممبر ممالک کے ساتھ، اقوام متحدہ کے بعد عالمی سطح پر دوسرے نمبر پر ہے جو چار براعظموں پر پھیلی ہوئی ہے۔

یہ مسلم ریاستوں کو ایسا پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے جس کے ذریعے ہم اتفاق رائے سے، متفقہ لائحہ عمل طے کر کے، مشترکہ کاوشیں بروئے کار لا سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ایک اہم مسلم ریاست ہونے کے ناطے شروع دن سے مسلم امہ اور اس کے مفادات کو ہمیشہ عزیز تر رکھا۔پاکستان کو او آئی سی کے دو سربراہی اجلاسوں اور چار وزرائے خارجہ کونسل (سی ایف ایم ) کانفرنسز کی میزبانی کا شرف حاصل ہو چکا ہے اور ہم وزرائے خارجہ کونسل کے اڑتالیسویں اجلاس کی میزبانی کیلئے تیار ہیں۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ ہمیں گولڈن جوبلی کے حوالے سے کامیابیوں کا جشن منانے کے ساتھ ساتھ ساری صورتحال کا سنجیدگی کے ساتھ جائزہ بھی لینا چاہیے۔آج مسلم امہ ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں کشمیر میں لاکھوں معصوموں کو ظلم و بربریت کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔او آئی سی نے عالمی سطح پر کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کو اپنی قراردادوں اور ٹھوس بیانات سے جس طرح اٹھایا ہے وہ قابل تحسین ہے۔

ہمیں یقین ہے کہ او آئی سی مظلوم کشمیریوں کی آواز کو ناصرف عالمی سطح پر اٹھاتی رہے گی بلکہ ان کے جائز مقصد کے حصول کے لیے ان کی بھرپور معاونت بھی کریگی۔آج فلسطین کے مسلمان تکلیف دہ صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔ پاکستان اپنے فلسطینی بھائیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے،اقوام متحدہ اور او آئی سی کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل کا حامی ہے جس میں 1967 سے قبل کی سرحدی صورت کا احیاء ، القدس الشریف دارالخلافہ کے ساتھ ایک آزاد فلسطینی ریاست شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ امر انتہائی تکلیف دہ اور باعثِ تشویش ہے کہ مغرب میں بالخصوص اور دیگر علاقوں میں بالعموم اسلاموفوبیا اور مسلمانوں کے خلاف نفرت کا رحجان بڑھتا ہوا دکھائی دے رہا ہے پاکستان نے اسلاموفوبیا کے خلاف ہمیشہ آگے بڑھ کر آواز اٹھائی ہے اور اٹھاتا رہے گا۔او آئی سی کی گرانقدر خدمات اور کامیابیوں کے باوجود مسلم امہ کو درپیش چیلنجز بہت پیچیدہ اور گھمبیر ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ او آئی سی کا تاثر ایک موثر اور متحرک تنظیم کے طور پر دنیا کے سامنے آئے۔ایسے وقت میں کہ جب بڑھتے ہوئے تنازعات مسلم دنیا کو دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں، او آئی سی کو امن و استحکام اور تنازعات کے حل کے حوالے سے اپنے کردار کو مستحکم بنانا ہو گا۔او آئی سی کے کشمیر اور فلسطین کے حوالے سے بیانات قابلِ ستائش ہیں لیکن اب او آئی سی کو قابض قوتوں کے خلاف دباؤ بڑھانے کے لئے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔