ملک میں قیام امن کے لئے ہم نے بہت بڑی قیمت ادا کی ہے،امیرحیدر ہوتی

دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لئے سیاست اور نظریات درمیان میں نہیں آنے چاہئیں،سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا وکلا سے خطاب

منگل اکتوبر 17:58

ملک میں قیام امن کے لئے ہم نے بہت بڑی قیمت ادا کی ہے،امیرحیدر ہوتی
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 20 اکتوبر2020ء) سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا امیر حیدر خان ہوتی نے کہا ہے کہ ملک میں قیام امن کے لئے ہم نے بہت بڑی قیمت ادا کی ہے۔ دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لئے سیاست اور نظریات درمیان میں نہیں آنے چاہئیں۔ 2008 سے 2018 تک جمہوری حکومت کا تسلسل جاری رہا تو اسکا سہرا عوام کو جاتا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوںنے منگل کو سٹی کورٹ میں وکلاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔

امیر حیدرخان ہوتی نے کہا کہ کراچی بار نے جمہوریت کے لئے تاریخی کردار ادا کیا ہے۔سانحہ کارساز کے شہدا کی برسی کے لئے کراچی پہنچا ہوں۔جو لوگ سانحہ میں شہید ہوئے وہ صرف پیپلز پارٹی کے نہیں جمہوریت کے شہدا ہیں۔12 مئی سانحہ میں شہید ہونے والے عدلیہ کی آزادی کے شہدا ہیں۔

(جاری ہے)

انہوںنے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی نے عدلیہ کی آزادی کے لئے قربانیاں دیں، آمر کا راستہ روکنا اور عدلیہ کی آزادی کو یقینی بنانے کا سہرا وکلا کو جاتا ہے، سچ کہنے اور لکھنے کیلے لئے بہت ہمت درکار ہوتی ہے۔

میڈیا نے سچ لکھنے کے لئے بڑی قربانیاں دی ہیں۔انہوںنے کہا کہ پچھلی دہائی میں افغانستان سے دہشت گردی کے اثرات فاٹا تک پہنچے۔ہم نے ایسا وقت بھی دیکھا جب لوگوں کو حکومت پر اعتماد نہیں رہا۔ملک میں قیام امن کے لئے ہم نے بہت بڑی قیمت ادا کی ہے۔انتظامیہ سے کہتا ہوں نیشنل ایکشن پلان پر دوبارہ توجہ دیں، امن کے لئے کسی بھی اقدام یا پالیسی میں بھرپور تعاون کریں گے،انہوںنے کہا کہ افغانستان میں ایک طرف امن مذاکرات ہیں دوسری طرف دہشتگردی کے واقعات بھی ہورہے ہیں۔

اچھی بات یہ ہے کہ افغانستان آج پاکستان کے امن کے لئے کردار کو سراہ رہا ہے۔ ہمسایہ ملک ہونے کے ناطے امن میں سہولت کاری کا کردار ضرور ادا کرنا چاہیے،پاکستان اور افغانستان کا امن ایک دوسرے سے جڑا ہے۔پاکستان میں امن کے بغیر افغانستان میں امن ہوسکتا ہے۔ دونوں ملکوں کو مشترکہ دشمن کا مل کر مقابلہ کرنا ہوگا۔امیر حیدرہوتی نے کہا کہ سابقہ قبائلی علاقے افغانستان کی جنگ سے پہلے پرامن تھے۔ قبائلی علاقوں میں آئینی ترمیم ہوگئی اب انکو قومی دھارے میں لانا ہے۔انتظامی اور مالی معاملات ہیں جن کو درست کرنا ضروری ہے۔سابقہ قبائلی علاقوں کو ترجیحی بنیادوں پر سپورٹ کیا جائے۔آج بھی قبائلی علاقوں میں خاصہ دار احتجاج کررہے ہیں۔