گیس لیکیج سے اتنی بڑی تباہی کیسے ہوئی مسکن چورنگی دھماکے پر تفتیشی اداروں کو شکوک و شبہات

دھماکے سے عمارت کے تباہ ہونے اور جانی و مالی نقصان کا مقدمہ گلشن اقبال تھانے میں درج کرلیا گیاجبکہ سی سی ٹی وی فوٹیج بھی منظرعام پر آگئی

جمعرات اکتوبر 14:21

گیس لیکیج سے اتنی بڑی تباہی کیسے ہوئی مسکن چورنگی دھماکے پر تفتیشی ..
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 22 اکتوبر2020ء) مسکن چورنگی کے قریب رہائشی عمارت اللہ نور اپارٹمنٹ میں دھماکا پراسراریت اختیار کرگیاجبکہ تفتیشی اداروں نے ہولناک دھماکے کو گیس لیکیج قرار دینے پرشکوک و شبہات کا اظہارکرتے ہوئے باریک بینی سے تحقیقات آغاز کردیا۔تفصیلات کے مطابق مسکن چورنگی کے قریب رہائشی عمارت اللہ نور اپارٹمنٹ میں دھماکا پراسراریت اختیار کرگیا اس سے قبل بھی مذکورہ عمارت میں اسی بینک کے ساتھ قائم ریسٹورنٹ میں رواں سال 9جنوری کو زور دار دھماکا ہوا تھا جس میں 3 ملازمین زخمی ہوئے تھے۔

گلشن اقبال پولیس کے مطابق زخمیوں نے بیان دیاتھا کہ صفائی کے دوران چولہے کا پائپ نکلنے سے گیس کا اخراج ہوا جس کے باعث گیس جمع ہونے کی وجہ سے ریسٹورنٹ میں دھماکا ہوا۔

(جاری ہے)

دھماکا ہونے کے بعد جو مناظر تھے اسے دیکھ کر ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے وہاں پر بارودی مواد پھٹا ہو۔اس دھماکے کے بعد گزشتہ روز اسی نوعیت کے خوف ناک دھماکے نے تفتیشی افسران کو نئی الجھن سے دوچار کر دیا ہے ۔

ذرائع کے مطابق تفتیشی اداروں نے بم ڈسپوزل اسکواڈ کی ابتدائی رپورٹ پر شکوک و شبہات کا اظہار کردیا ہے۔تحقیقاتی ادارے نے دھماکے کی وجوہات جاننے کیلئے باریک بینی سے تحقیقات کا آغازکردیا، پولیس اور ایس ایس جی سی کی ٹیمیں مزید جانچ کیلئے جائے حادثہ کا دورہ کریں گی۔دوسری جانب دھماکے سے عمارت کے تباہ ہونے اور جانی و مالی نقصان کا مقدمہ گلشن اقبال تھانے میں درج کرلیا گیا ہے ، مقدمہ تباہ ہونیوالی نجی بینک کے آپریشن منیجر محمد عارف کی مدعیت میں درج کیا گیاہے ، جس میں قتل باالسبب اور نقصان پہنچانے کی دفعات درج ہیں۔

مدعی محمد عارف نے مقدمہ میں پولیس کو بیان دیا کہ میں اور بینک کا دیگرعملہ موجود تھاکہ صبح 9.25 پرزوردار دھماکہ ہوا اوربینک کی میزانائن فلور کی چھت گرگئی،دھماکے کے بعد میں گرتا پڑتا بینک سے باہر نکلا تو دیکھا کہ زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا جارہا ہے ، دھماکے کے بعد تین عدد کیش سیف اورتمام لاکر موجود تھے۔بم ڈسپوزل اسکواڈ نے ابتدائی رپورٹ میں واقعہ گیس لیکج کانتیجہ قرار دیا ، جس سے بلڈنگ اورلوگوں کو نقصان پہہنچا جبکہ دھماکہ میں 5 افراد ہلاک جبکہ 30زخمی ہوگئے تھے جس میں بینک کا عملہ بھی شامل ہے۔

دوریں اثناء عمارت میں ہونے والے دھماکے کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آگئی ہے۔سی سی ٹی وی فوٹیج میں بلڈنگ کو دھماکے سے پھٹتے دیکھا جاسکتا ہے جبکہ دھماکے کے فورا بعد مسکن چورنگی پر ملبے گرنے سے دھواں اٹھتا دکھائی دے رہا ہے، چورنگی پر موجود موٹرسائیکل اور کارسوار تیزی سے بھاگ رہے ہیں ۔