جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس کا فیصلہ ، اپوزیشن کا اگلا ہدف کون ہوگا؟

پیپلز پارٹی ، مسلم لیگ ن اور جمعیت علمائے اسلام ف کی طرف سے منصوبہ بندی کی گئی ہے کہ ان کا ہدف صدر پاکستان عارف علوی ہوں گے ، ڈاکٹر شاہد مسعود کا انکشاف

Sajid Ali ساجد علی ہفتہ اکتوبر 10:38

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس کا فیصلہ ، اپوزیشن کا اگلا ہدف کون ہوگا؟
اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 اکتوبر2020ء) مشہورومعروف تجزیہ کار ڈاکٹر شاہد مسعود نے انکشاف کیا ہے کہ سپریم کورٹ کی طرف سے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس کے فیصلے کے بعد پاکستان ڈیموکریٹک اتحاد میں شامل جماعتیں صدر پاکستان عارف علوی کو اپنا ہدف بناتے ہوئے ان کے استعفے کا مطالبہ کریں گی۔ تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں اس واقعے کو آئینی بحران بنائیں گی ، اور اس سلسلے میں پاکستان پیپلز پارٹی ، پاکستان مسلم لیگ ن اور جمعیت علمائے اسلام ف کی طرف سے منصوبہ بندی کی گئی ہے کہ ان کا ہدف صدر پاکستان عارف علوی ہوں گے ، اس کیس میں ہونے والے فیصلے کی بنا پر ان کے استعفے مطالبہ کیا جائے گا ، جب کہ صدر پاکستان کے استعفے کے بعد اپوزیشن کی طرف سے ان کے مواخذے کا مطالبہ بھی کیا جائے گا۔

(جاری ہے)

واضح رہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ریفرنس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا ،عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف صدارتی ریفرنس آئین اورقانون کی خلاف وزری تھی،صدر آئین کے مطابق صوابدیدی اختیارات استعمال کرنے میں ناکام رہے ، تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ریفرنس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا ہے، 224 صفحات پر مشتمل فیصلہ سپریم کورٹ کے جسٹس عطاء بندیال نے جاری کیا، فیصلے کا آغاز قرآن پاک کی سورة النساء سے کیا گیا۔

سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ریفرنس کا مختصر فیصلہ 19جون کو سنایا تھا ، سپریم کورٹ کے 10رکنی بنچ نے متفقہ طور پر ریفرنس کیخلاف فیصلہ دیا تھا ، عدالت نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اپیل پر سماعت کا فیصلہ سنایا تھا ،فیصلے میں لندن جائیدادوں کی انکوائری کا معاملہ ایف بی آر کو بھجوایا گیا تھا ، سپریم کورٹ نے تفصیلی میں فیصلے میں کہا کہ جسٹس یحیٰ آفریدی نے اپنے نوٹ میں لکھا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف صدارتی ریفرنس آئین اورقانون کی خلاف وزری تھی ، تفصیلی فیصلے میں عدالت نے صدارتی ریفرنس غیرآئینی قرار دے دیا۔