ہیوی گاڑیوں نے جگہ جگہ سے کراچی موٹر وے کو مخدوش کردیا

مختلف علاقوں میں موٹر وے کے دونوں اطراف سڑک بیٹھ گئی ہے ، ٹوٹ پھوٹ کے سبب ٹرانسپورٹروں اور مسافروں کو شدید پریشانی کا سامنا

ہفتہ اکتوبر 19:07

ہیوی گاڑیوں نے جگہ جگہ سے کراچی موٹر وے کو مخدوش کردیا
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 24 اکتوبر2020ء) جماعت اسلامی سندھ کے جنرل سیکریٹری کاشف سعید شیخ نے کراچی تا حیدرآباد اربوں کی لاگت سے تعمیرکراچی حیدرآباد M-9 موٹروے پروجیکٹ کی تباہی اور آئے روز حادثات میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع ہونے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہیوی گاڑیوں نے جگہ جگہ موٹر وے کو مخدوش کردیا ہے،مختلف علاقوں میں موٹر وے کے دونوں اطراف سڑک بیٹھ گئی ہے جس کے باعث ٹو ٹ پھوٹ کے سبب ٹرانسپورٹروں اور مسافروں کو شدید پریشانی کا سامنا۔

انہوں نے اپنے ایک بیان میں مزید کہا کہ لاہور تا اسلام آباد، سکھر تا ملتان اور پشاور تا اسلام آباد موٹروے بہترین سڑکیں بنائی گئیں جبکہ سندھ کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والی سب سے بڑی شاہراہ کی پرانی سڑک کی مرمت کرکے اسے موٹروے کا نام دیدیا گیا، ایک سال کے عرصہ میں ہی زبوں حالی کا شکار ہوچکی ہے، نا ہموار سٹرک کے سبب ٹریفک کی روانی بھی متاثر ،ہیوی گاڑیوں نے موٹر وے کی تکنیکی اورفنی تعمیرات کا پول کھول دیا ،عوام موٹر وے پر خوشگوار سفری سہولیات سے محروم جبکہ حکام کی چشم پوشی حادثات کا سبب بن سرہی ہے۔

(جاری ہے)

کراچی حیدرآباد کے نام نہاد موٹروے کا براحال ہے ،نور ی آباد سمیت مختلف علاقوں میں جگہ جگہ سٹر ک بیٹھ گئی ہے نا ہموارسٹرک کے سبب حادثات کا خطرہ بھی ہمہ وقت لاحق رہتا ہے۔دونوں اطراف ایک ٹریک بری طرح متاثر ہوا ہے اور درمیانہ ٹریک جزوی طرح متاثر ہے، یہ امر قابل ذکر ہے کہ تعمیراتی کمپنی عوام کو عمدہ سفری سہولیات فراہم کرنے عوض چھوٹی گاڑیوں سے 30روپے کے بجائے 270روپے یکطرفہ ٹول ٹیکس وصول کررہی ہے جبکہ ٹرک 1200روپے ،ویگن 450 روپے،بس 900روپے ، کوسٹر مزدا 650 روپے وصول کیے جارہے ہیں لیکن تقریباً 40ہزار گاڑیوں سے یومیہ کروڑوں روپے وصول کرنے کے باوجود عوام M-9موٹر وے پر خوشگوار سفرکرنے سے محروم ہیں۔

سابق آئی جی موٹروے پولیس اے ڈی خواجہ سمیت ماہرین تعمیرات اور ارکان قومی وصوبائی اسمبلی بھی موٹروے کی تعمیرات پر تحفظات کا اظہار کرچکے ہیں۔ اے ڈی خواجہ میڈیا سے بات چیت میں برملا اس بات کا اظہار کرچکے ہیں کہ’’ یہ موٹر وے نہیں ہے پرانا سپرہائی وے ہے۔M-9کی انجینئرنگ اور ڈیزائن پر موٹر وے پولیس کچھ نہیں کرسکتی‘‘ ٓاربوں روپے کی لاگت سے تعمیرشدہ یہ سڑک کسی کچی سڑک کا منظر پیش کررہی ہے اسلئے فوری طور پر شفاف تحقیقات کی جائیں کہ ایک سال کے عرصہ میں ہی موٹروے کے نام پر بننے والی یہ سڑک اسقدر تباہی کا شکار کیوں کر ہوئی ہے اور ذمہ داران کا تعین کرکے انہیں کڑی سزا دی جائے نیز سڑک کو دوبارہ لاہور۔

اسلام آباد طرز کا موٹروے بنانے کیلئے بہترین انتظامات کئے جائیں تاکہ بھاری ٹیکس ادا کرنے والے عوام پرسکون اور محفوظ سفرکرسکیں۔