ترک صدر نے گستاخانہ خاکے دکھانے والے فرانسیسی استاد کے قتل کی مذمت کر دی

استاد کو قتل کیے جانے کا معاملہ قابل مذمت ہے، لیکن فرانسیسی صدر بھی مسلمانوں کے جذبات مجروح کر رہے ہیں، یورپ انہیں روکے: طیب اردگان

muhammad ali محمد علی پیر اکتوبر 19:17

ترک صدر نے گستاخانہ خاکے دکھانے والے فرانسیسی استاد کے قتل کی مذمت ..
استنبول (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 اکتوبر2020ء) ترک صدر نے گستاخانہ خاکے دکھانے والے فرانسیسی استاد کے قتل کی مذمت کر دی۔ تفصیلات کے مطابق ترک صدر رجب طیب اردگان نے فرانس میں گستاخانہ خاکے دکھانے والے استاد کے قتل کے معاملے پر اہم بیان جاری کیا ہے۔ ترک صدر کا کہنا ہے کہ استاد کو قتل کیے جانے کے واقعے کی مذمت کرتے ہیں، ایسا کوئی بھی واقعہ قابل قبول نہیں ہے۔

ترک صدر کا مزید کہنا ہے کہ فرانسیسی صدر کا مسلمانوں کیساتھ رویہ بھی درست نہیں ہے۔ فرانسیسی صدر بھی مسلمانوں کے جذبات مجروح کر رہے ہیں، یورپ انہیں روکے۔ ترک صدر کا مزید کہنا ہے کہ یورپ میں مسلمانوں سے وہ برتاؤ ہے جو دوسری جنگ عظیم سے پہلے یہودیوں سے تھا۔ ترک صدر رجب طیب اردگان نے ایک مرتبہ پھر فرانسیسی صدر پر دماغی معائنہ کرانے کے لیے زور دیا ہے۔

(جاری ہے)

واضح رہے کہ کچھ روز قبل آزادی اظہاررائے کے سبق کے دوران گستاخانہ خاکے دکھانے والے استاد سیمیول پیٹی کا سرقلم کیے جانے کے کے واقعے کے بعد فرانسیسی صدر میکرون نے زور اعلان کیا تھا فرانس خاکوں سے پیچھے نہیں ہٹے گا، سیمیول پیٹی کو اس لیے قتل کیا گیا کیونکہ اسلام پسند ہمارا مستقبل چاہتے ہیں۔ فرانسیسی صدر کے اس بیان کے بعد سب سے پہلے ترک صدر کی جانب سے شدید ترین ردعل دیا گیا۔

طیب اردگان نے کہا کہ اسلام دشمنی کے چکر میں یورپ صفحہ ہستی سے مٹ جائے گا۔ اسلام دشمنی یورپ کو لے ڈوبے گی اور وہ خود اس چکر میں پڑ کر اپنے آپ کو ختم کر لے گا۔ مسلمان مخالف اتحاد یورپین ممالک کو ڈوبا دے گا۔ یورپ اسلام اور مسلمان دشمنی کی اس بیماری سے جلد ہی باہر نہ آیا تو پورا یورپ صفحہ ہستی سے مٹ جائے گا۔ ترک صدر نے فرانسیسی صدر میکرون کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کیخلاف بیان بازی کرنے والا فرانسیسی صدر دماغی مریض ہے جسے علاج کی ضرورت ہے۔

طیب اردگان نے پیش گوئی کی ہے کہ تعصبانہ سوچ کی وجہ سے فرانسیسی صدر کو انتخابات میں شکست ہوگی۔ 2022 کے بعد میکرون فرانس کے صدر نہیں ہوں گے۔ ترک صدر کے اس بیان کے بعد فرانس اور ترکی کے سفارتی تعلقات کشیدہ ہوئے، پیرس نے انقرہ سے اپنا سفیر واپس بلا لیا تھا۔ جبکہ ترک صدر کے بعد دیگر اسلامی ممالک نے بھی فرانسیسی صدر کیخلاف آواز بلند کی ہے۔ مختلف مسلم ممالک میں فرانس کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، کئی اسلامی ممالک نے فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ کا آغاز بھی کر دیا ہے۔