پشاور اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ ، عملے کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئیں

70 کے قریب بچے زخمی ہیں جنہیں اسپتال منتقل کیا گیا ہے، کچھ بچوں کی حالت تشویشناک ہے۔معاون خصوصی برائے اطلاعات کامران بنگش

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان منگل اکتوبر 10:37

پشاور اسپتالوں میں ایمرجنسی  نافذ ، عملے کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئیں
پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین -27 اکتوبر2020ء) معاون خصوصی برائے اطلاعات کامران بنگش کا کہنا ہے کہ پشاور کی دیر کالونی میں ہونے والے دھماکے کے بعد پشاور کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔تفصیلات کے مطابق پھولوں کے شہر ایک بار پھر امن دشمنوں کے نشانے پر آ گیا۔آج پشاور کی دیر کالونی کے مدرسے میں بم دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں 7 افراد شہید ہو گئے جب کہ مدرسے میں زیر تعلیم 70 بچے زخمی ہو گئے جنہیں اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

معاون خصوصی برائے اطلاعات کامران بنگش کا کہنا ہے کہ 70 کے قریب بچے زخمی ہیں جنہیں اسپتال منتقل کیا گیا ہے، کچھ بچوں کی حالت تشویشناک ہے۔ زخمی ہونے والوں میں زیادہ تعداد بچوں کی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے جب کہ عملے کی چھٹیاں بھی منسوخ کر دی گئیں۔

(جاری ہے)

بم ناکارہ بنانے والی ٹیم اور ریسکیو اہلکاروں کی بڑی تعداد مدرسے میں پہنچ گئی ، جب کہ علاقے کو فوری طور سیل کر دیا گیا ، زخمیوں کی زیادہ تعداد کو لیڈی ریڈنگ ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں زیادہ تر کے سروں میں چوٹیں آئی ہیں جس کی وجہ سے ان کی حالت نازک بتائی گئی ہے۔

ایس ایس پی آپریشنز نے واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ایک شخص سرخ رنگ کا بیگ لے کر مدرسے میں داخل ہوا۔نامعلوم شخص کے مدرسے میں داخل ہوتے ہی دھماکہ ہو گیا۔مدرسے میں داخل ہونے والے شخص کی تلاش جاری ہے جب کہ پولیس حکام نے مزید بتایا ہے کہ دھماکہ آیی ای سے کیا گیا۔یہ دیسی ساختہ بم تھا ٹائم ڈیوائس بھی نصب تھی۔مختف سیاسی شخصیات کی جانب سے دھماکے کی مذمت کی گئی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ملک دشمن ایک بار پھر سرگرم ہو گئے ہیں اور پاکستان میں امن خراب کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔واضح رہے کہ نیکٹا کی طرف سے کوئٹہ اور پشاور میں دہشتگردی کا تھریٹ جاری کیا گیا تھا