کراچی میں ٹارگٹ کلرز پھر سرگرم ، ’را‘ بھی ملوث ، اہم انکشافات سامنے آگئے

شہر میں 3 اقسام کی ٹارگٹ کلنگ کی جارہی ہے ، ٹارگٹ کلر کو 15 ہزار تو کبھی 25 ہزار اور 5 ہزار روپے بھیجے جاتے ہیں ، میڈیا کے غیر معروف لوگ بھی کرائے کے قاتلوں سے رابطے میں ہیں ، سی ٹی ڈی سندھ کے افسر راجا عمر خطاب نے تفصیلات بتادیں

Sajid Ali ساجد علی ہفتہ نومبر 19:04

کراچی میں ٹارگٹ کلرز پھر سرگرم ، ’را‘ بھی ملوث ، اہم انکشافات سامنے ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 نومبر2020ء) پاکستان اہم اقتصادی شہر کراچی میں ماضی کی طرح ایک بار پھر کراچی میں ٹارگٹ کلرز کے سرگرم ہونے کی اطلاعات سامنے آگئیں ، ان کارروائیوں میں بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ بھی ملوث ہے ، اہم انکشافات سامنے آگئے۔ اس حوالے سے انسداد دہشت گردی ڈیپارٹمنٹ سندھ کے سینئر افسر راجا عمر خطاب کی طرف سے میڈیا ذرائع کو بتایا گیا ہے کہ اب تک کی جانے والی تفتیش میں ٹارگٹ کلنگ کے 12 کیسز سامنے آچکے ہیں ، جن میں انکشاف ہوا ہے کہ شہر قائد میں اس وقت 3 اقسام کی ٹارگٹ کلنگ کی جارہی ہے ، جن میں پہلی ٹارگٹ کلنگ بھارت کی بدنام زمانہ خفیہ ایجنسی ’را‘ کی طرف سے کروائی جا رہی ہے ، ٹارگٹ کلنگ کی دوسری قسم میں مختلف نوعیت کے گروہ ملوث ہیں جب کہ تیسری قسم میں ایک گروہ دوسرے گروہ کے شخص کو اپنا ہدف بناتا ہے۔

(جاری ہے)

راجا عمر خطاب نے چونکا دینے والا انکشاف کیا کہ ٹارگٹ کلنگ کے ان واقعات میں میڈیا سے تعلق رکھنے والے چند غیر معروف اور معمولی نوعیت کے لوگ بھی کرائے کے ان قاتلوں کے ساتھ رابطے میں رہتے ہیں ، اس کے ثبوت کے طور پر ہمارے پاس ان کی مختلف ریکارڈنگز اور دیگر مواد بھی موجود ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سہولت کار کو پچاس ہزار سے ایک لاکھ روپے تک کی ادائیگی کی جاتی ہے ، جو کہ ٹارگٹ کلر کو اس کی ضرورت کے لحاظ سے مختلف اقساط میں ادا کیے جاتے ہیں اس سلسلے میں سہولت کار کی طرف سے ٹارگٹ کلر کو کبھی 15 ہزار تو کبھی 25 ہزار اور کبھی 5 ہزار روپے بھی بھیجے جاتے ہیں اور یہ تمام رقم ہنڈی حوالے کے ذریعے سے بیرون ملک سے کراچی منتقل کی جارہی ہے۔

دوسری طرف کراچی میں حوالہ ہنڈی کا دوسرا خفیہ بین الاقوامی نیٹ ورک پکڑا گیا ،ملک دشمن عناصر کو فنڈز پہنچانے والے ملزم جنید کو دھورا جی سے گرفتار کر لیا گیا ، ملزم بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سلیپر سیلز کو کراچی میں رقم فراہم کرتا تھا ، رقم دہشت گردی ٹارگٹ کلنگ اور ہتھیاروں کی خریداری میں استعمال ہوتی تھی، ملزم کے قبضے سے لیپ ٹاپ ،یو ایس بی اور دیگر سامان برآمد ہوا ۔

بتایا گیا ہے کہ ملزم مقامی منی ایکسچینج کمپنی کا منیجر ہے جو حوالہ ہنڈی کے عالمی نیٹ ورک سے جڑا ہوا تھا ، ملزم بھارتی خفیہ ایجنسی را کے کراچی میں موجود سلیپر سیلز کو رقم فراہم کرتا تھا ، ملک دشمن عناصر رقوم کا استعمال منظم دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کے علاوہ ممنوعات اور ہتھیاروں کی خریداری کرتے رہے۔