آسٹریلوی فوج کے 9 اعلیٰ افسروں نے خود کشی کر ڈالی

افغان جنگ میں وار کرائم کے مرتکب افسروں نے بھانڈہ پھوٹنے پر اپنی جانیں لے لیں

Sajjad Qadir سجاد قادر جمعہ نومبر 07:28

آسٹریلوی فوج کے 9 اعلیٰ افسروں نے خود کشی کر ڈالی
آسٹریلیا (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 نومبر2020ء) افغانستان میں جاری جنگ میں حصہ لینے والے آسٹریلوی فوجیوں سے متعلق ان ہی کی ملک میں جاری تفتیشی رپورٹ جب سے منظر عام پر آئی ہے تب سے دنیا بھر میں تہلکہ مچا ہوا ہے۔ایک تو افغانیوں کے ساتھ ہمدردی کی لہر دنیا بھر میں پیدا ہوئی ا ور دوسرا آسٹریلوی حکومت کو اس قسم کی انصاف برمبنی اور شفاف انکوائری کرنے کی مبارکباد بھی دی گئی۔

تاہم یہ رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد سزاﺅں کا سلسلہ بھی شروع ہوا۔جن جن اعلیٰ افسران کو رپورٹ میں مجرم ٹھہرایا گیا تھا انہیں ادارے سے نکالا گیااور ان کا کورٹ مارشل کر کے قرار واقعی سزائیں دی گئیں ہیں۔جب فوجی افسران کو وار کرائمز کا مرتکب ٹھہرایا گیا تو آسٹریلیا کے عوام نے بھی اپنے فوجی افسران کے خلاف نفرت کا اظہار کیا جس وجہ سے ان سزا یافتہ افسران نے خود کشی کرتے ہوئے اپنی جانیں لے لی ہیں۔

(جاری ہے)

آسٹریلین گورنمنٹ افغان وار کرائم کے شرمناک کیس سے متعلق نہایت سنجیدہ ہے جس وجہ سے اس نے ان سبھی افسران کو سزا دینے کا فیصلہ کیا تھا۔اس رپورٹ کے مطابق ہائی رینک کے25فوجی افسران نے تین درجن سے زائد بے گناہ افغانیوں کا قتل کیا تھا۔جس سے متعلق رپورٹ میں گھٹیااور بہیمانہ کے الفاظ استعمال کیے گئے۔اب ایسے موقعہ پر جب امریکہ افغانستان کی جنگ ہارتے ہوئے دم دبا کر وہاں سے بھاگ رہا ہے تو یہ آسٹریلوی فوج کے مورال کو اور گرانے کے لیے کافی ثابت ہوئی۔

لہٰذا نامزد فوجیوں نے خود کشی کرنے کو زیادہ ترجیح دی اور ایک رپورٹ کے مطابق کل 9افسران خود کشی کے مرتکب ہوئے ہیں جن میں سے ایک خاتون افسر اور آٹھ مرد افسر شامل ہیں۔خود کشی کرنے والے افسران کی عمریں 20سے پچاس سال کے درمیان بتائی جا رہی ہیں۔ آسٹریلوی فوج کے مینٹل ہیلتھ ایڈووکیٹ کے مطابق ان افسران نے خود کشی میڈیا پریشر کی وجہ سے کی۔وار کرائم کی رپورٹ سے متعلق میڈیا میں اٹھنے والے بھونچال کے بعد ہی افسران یہ انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہوئے۔