مجھ پر ایل این جی ٹرمینل میں پروسیجر کی خلاف ورزی کا الزام لگایا گیا ہے کرپشن کا نہیں، شاہد خاقان عباسی

منگل دسمبر 22:22

مجھ پر ایل این جی ٹرمینل میں پروسیجر کی خلاف ورزی کا الزام لگایا گیا ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 01 دسمبر2020ء) سابق و زیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ مجھ پر ایل این جی ٹرمینل میں پروسیجر کی خلاف ورزی کا الزام لگایا گیا ہے کرپشن کا نہیں۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ مجھ پر ایل این جی ٹرمینل میں پروسیجر کی خلاف ورزی کا الزام لگایا گیا ہے کرپشن کا نہیں،درخواست دی تھی کہ عدالت میں کیمرہ لگا دیا جائے اور کارروائی لائیو چلائی جائے،عوام کو علم ہونا چاہیے کہ جن عوامی نمائندوں پر اربوں روپے کے الزامات لگائے جاتے ہیں ان میں کیا ہے،اس کیس کے درخواست دہندہ رشید احمد کو عدالت میں بلایا جائے،جج صاحب رشید احمد سے پوچھیں کہ کون سا جرم ہوا ہے اور انکے پاس کون سے ثبوت ہیں میری اور مفتاح اسماعیل کی پریس کانفرنس کے بعد دو وفاقی وزراء نے پریس کانفرنس کی،وفاقی وزراء ہماری پریس کانفرنس کا جواب دینے آئے تھے لیکن نہیں دے سکے،وفاقی وزراء نہیں بتا سکے کہ سرکلر ڈپٹ دو اعشاریہ تین کھرب تک پہنچ چکا ہے،ایک وزیر صاحب پچھلے دو سال سے کہہ رہے ہیں کہ پی ایم ایل این نے جو معاہدے کیے وہ بہت مہنگے کیے،ایک وزیر صاحب نے کہا کہ بجلی تو تھی لیکن کھمبے نہیں تھے،میں انکو کہوں گا کہ چوبیس ہزار میگا واٹ بجلی عوام تک پہنچی،اگر انہوں نے کوئی کھمبا لگایا ہے تو وہ ہمیں بتائیں ہم بھی خوش ہو جائیں،یہ وزراء بھی شیخ رشید کی طرح نیب کو درخواست بھیجیں،ایک وفاقی وزیر کا ڈھائی سو میگا واٹ کا پلانٹ ہے جو ڈیزل پر چلتا رہا۔

(جاری ہے)

انہوںنے کہاکہ جب وہ پلانٹ ایل این جی پر آیا تو اس سے کتنا فرق پڑا، اسکی قیمت میں کمی واقع ہوئی،ان وزراء کی نالائقی پورے ملک پر عیاں ہے، ان کے پاس حقائق کا جواب نہیں ہے۔