Live Updates

جرمنی: ٹریئر متاثرین کے سوگ میں ایک منٹ کی خاموشی

DW ڈی ڈبلیو جمعہ دسمبر 10:40

جرمنی:  ٹریئر متاثرین کے سوگ میں ایک منٹ کی خاموشی

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 04 دسمبر 2020ء) جرمنی کے مغربی شہر ٹریئر میں ان پانچ افراد کی موت کا سوگ منایا گیا جو راہگیروں پر کار چڑھانے کے واقعے میں ہلاک ہوگئے تھے۔ اس قدیم ترین شہر کے ایک بھیڑ بھاڑ والے بازار میں منگل یکم دسمبر کو ایک شخص نے اپنی گاڑی راہگیروں کے ہجوم پر چڑھا دی تھی، جس میں ایک بچی سمیت پانچ افراد ہلاک اور دیگر 14 افراد زخمی ہوگئے تھے۔

ان کے سوگ میں تقریبا 500 افراد شہر کے معروف رومن دور کے گیٹ 'پورٹا نیگرا' کے پاس جمع ہوئے اور ایک منٹ تک خاموش رہ کر متاثرین کو یاد کیا۔ رومن عہد کے اسی گیٹ کے پاس راہگیروں کے ہجوم پر کار چڑھانے کا واقعہ پیش آیا تھا۔

اس تعزیتی تقریب کے انعقاد سے پہلے ہی سوگواروں سے کہاگیا تھا کہ کورونا وائرس کی وبا کے سبب وہ سوشل ڈسٹینسنگ جیسی ہدایات پر عمل کریں اور اس میں شرکت کرنے والے افراد نے ایسے تمام اصول و ضوابط کی پابندی بھی کی۔

(جاری ہے)

وفاقی صوبے رائن لینڈ پلاٹینیٹ میں مقامی وقت کے مطابق ایک بجکر 46 منٹ پر متاثرین کو خاموشی سے یاد کرنے کا وقت مقرر کیا گیا تھا اور اس میں بھی لوگوں نے وسیع پیمانے پر حصہ لیا۔گزشتہ منگل کو ایک بجکر 46 منٹ پر ہی کار چڑھانے کا واقعہ پیش آیا تھا۔

ٹریئر میں یکجہتی کا مظاہر

اس خاموش تعزیتی تقریب سے قبل ریاست کی سربراہ مالو ڈریئر نے کہا تھا کہ ''متاثرین کی یاد میں اس وقت زندگی پوری طرح سے تھم جائیگی۔

'' ٹریئر کے میئر وولفرام لائبے نے اس موقع پر کہا، ''آئیے ہم سب یہ دکھائیں کہ شہر کے لوگ کتنی مضبوطی سے ایک ساتھ متحد ہیں۔ ٹریئر ایک ساتھ کھڑا ہے۔''

اس حملے میں ہلاک ہونے والی دو ماہ کی ایک بچی بھی شامل ہے۔ بچی کے والد اپنے کنبے کے ساتھ خریداری کے لیے نکلے تھے جن کی عمر 45 برس کی تھی اور وہ بھی ہلاک ہوگئے۔ اس کے علاوہ 25، 52 اور 73 برس کی تین خواتین بھی ہلک ہوئیں۔

حملے کی محرکات واضح نہیں

سرکاری وکلاء کا کہنا ہے کہ مشتبہ شخص، جو واقعے کے وقت نشے میں دھت تھا، کو ماہرین نفسیات کی نگرانی میں رکھنے کی ضرورت پڑسکتی ہے۔ انہوں نے یہ تو نہیں بتایا کہ حملے کی کیا وجوہات ہوسکتی ہیں، تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس بات کا بھی کوئی اشارہ نہیں ہے کہ اس کے پیچھے کوئی سیاسی یا پھر مذہبی عنصر کار فرما ہو۔

پولیس نے واقعے کے چار منٹ بعد ہی ڈرائیور کو گرفتار کر کے گاڑی اپنے قبضے میں لے لی تھی۔ یہ حملہ ایک 51 سالہ مقامی شہری نے کیا تھا۔ ملزم سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے کہ اس حملے کی وجہ کیا تھی اور ملزم اس جرم کا مرتکب کیوں ہوا؟ ملزم کو اپنے خلاف قتل اور اقدام قتل کے کئی الزامات کا سامنا کرنا ہو گا۔

ص ز/ ج ا (ڈی پی اے، ای پی ڈی، کے این اے)

کرونا وائرس کی دوسری لہر سے متعلق تازہ ترین معلومات