کسٹم حکام کی جانب سے ایرانی وائیٹ سپرٹ کی درآمد پر اسٹینڈنگ آرڈر کے ذریعے پابندی قانونی تجارت پر قدغن ہے ، وطن یار بازئی

جمعرات جنوری 00:13

کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 13 جنوری2021ء) ایوان صنعت و تجارت کوئٹہ بلوچستان کے قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم کے چیئرمین وطن یار بازئی نے کسٹم حکام کی جانب سے ایرانی وائیٹ سپرٹ کی درآمد پر اسٹینڈنگ آرڈر کے ذریعے پابندی کو قانونی تجارت پر قدغن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام سے نہ صرف بلوچستان کے امپورٹرز کی حق تلفی ہوئی ہے بلکہ اسے بے روزگاری میں بھی اضافہ بھی ہو گا۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کوئٹہ بلوچستان میں مختلف وفود سے ملاقات کے دوران بات چیت کرتے ہوئے کیا۔وطن یار بازئی کا کہنا تھاکہ ایک طرف کسٹم حکام نے ایرانی وائیٹ سپرٹ کی درآمد پر اسٹینڈنگ آرڈر کے ذریعے پابندی عائد کی ہے لیکن دوسری جانب ایرانی وائیٹ اسپرٹ کو بندر عباس پورٹ سے کراچی لے جا کر اسے دبئی اوریجن کے مال کے نام پر کلیئر کیا جا رہا ہے حالانکہ ایرانی مال کو تفتان اور کوئٹہ کے علاوہ کئی اور کلیئر ہی نہیں کیا جا سکتا ہم اس اقدام کو بلوچستان کے امپورٹ و ایکسپورٹ سے وابستہ افراد کے ساتھ ظلم تصور کرتے ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ وائیٹ سپرٹ کے امپورٹ پر ڈیزل کا الزام عائد کر کے پہلے بھی اس کاروبار سے منسلک افراد کے لیے مشکلات کھڑی کی گئی جس کیلئے چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کوئٹہ بلوچستان کے عہدیداران و ممبران نے کسٹم حکام سے ملاقاتیں کیں اور انہیں لیبارٹری ٹیسٹ و دیگر کے لئے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا انہوں نے کہا کہ وائیٹ سپرٹ سے لدی گاڑیوں پر شکوک وشبہات پیدا کرنے کے بعد ان کے لیبارٹری ٹیسٹ کروائے جاتے رہے ہیں جس میں وہ مال بردار گاڑیاں کلیئر بھی ہوئی لیکن کراچی میں لیبارٹری ٹیسٹ و دیگر کچھ بھی نہیں ہوتا اس لئے ہم وائیٹ سپرٹ کے قانونی کاروبار کو کراچی شفٹ کرنے کی مذمت کرتے ہیں انہوں نے کہا ہے وائیٹ سپرٹ کے قانونی دستاویزات سے متعلق ہمار ی کسٹم ،ایف بی آر اور ایرانی حکام سے بھی جوائنٹ ٹریڈ میٹنگ میں بات چیت ہوئی تھی تاکہ ایرانی وائیٹ سپرٹ کے پاکستان امپورٹ کو متاثر ہونے سے بچایا جا سکے انہوں نے کہا کہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کوئٹہ بلوچستان کسی کو بھی قانونی تجارت پر قدغن کی اجازت نہیں دے گی بلکہ اس سلسلے میں ہر فورم پر صدائے حق بلند کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ ایک طرف کسٹم حکام کی جانب سے وائیٹ سپرٹ کو غیر اہم آئٹم قرار دے کر پابندی نے امپورٹرز کو مشکلات سے دوچار کیا ہے تو دوسری جانب اس سے بیروزگاری میں اضافہ بھی ہو گا۔