موٹروے پر دھند کے باعث حادثہ، درجن سے زائد گاڑیاں ٹکرا گئیں

نوابشاہ میں دھند کے باعث گاڑیاں ٹکرانے کے باعث 2 افراد جاں بحق ، 20 سے زائد زخمی ہو گئے

Shehryar Abbasi شہریار عباسی اتوار جنوری 11:41

موٹروے پر دھند کے باعث حادثہ، درجن سے زائد گاڑیاں ٹکرا گئیں
نوابشاہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین ۔ 17 جنوری2021ء) نوابشاہ میں موٹروے پر دھند کے باعث خوفناک حادثے میں 12 سے زائد گاڑیاں آپس میں ٹکرا گئیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق گاڑیوں کی ٹکر سے 2 افراد جاں بحق جبکہ 20 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق زخمیوں کو قریبی ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے، جبکہ سڑک کو بھی خالی کروانے کے لیے امدادی کارروائیاں جاری ہیں ۔

تفصیلات کے مطابق دھند کے باعث دولت پور بائی پاس پر درجن بھر گاڑیاں آپس میں ٹکرائی ہیں، حادثہ اتنا شدید تھا کہ کئی گاڑیوں کا اگلہ حصہ مکمل طور پر تباہ ہوگیا۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق حادثے کے نتیجے میں دو افراد جاں بحق جبکہ بیس سے زائد زخمی ہوئے، جاں بحق اور زخمیوں کا تعلق ملک کے مختلف شہروں سے بتایا جارہا ہے فوری طور پر جاں بحق افراد کی شناخت نہیں ہوسکی ہے۔

(جاری ہے)

واضح رہے کہ اس سے قبل شدید دھند کی وجہ سے میانوالی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات رونماء ہونے سے 5افراد زندگی کی بازی ہار گئے جبکہ متعدد زخمی ہو چکے ہیں۔ شدید دھند کے باعث سردی میں بھی اضافہ ہو چکا ہے اور سردی سے ستائی عوام دکانوں کے سامنے،سڑکوں اور مختلف چوراہوں پر لکڑی اور کوئلے جلا کر آگ تاپنے پر مجبور ہیں۔ ٹریفک پولیس اور پنجاب ہائی وے پٹرولنگ پولیس نے ڈرائیوروں کو محتاط انداز میں ڈرائیونگ کرنے اور فوگ لائٹس کا استعمال کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں جبکہ عوام کو غیر ضروری سفر کرنے سے اجتناب برتنے کی ہدایت کی ہے۔

یاد رہے کہ دھند کے باعث فلائیٹ اور ٹرین آپریشن بری طرح متاثر ہے۔ شدید دھند کی وجہ سے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ، سول ایوی ایشن حکام کو لاہور پہنچنے والی ملکی اور غیر ملکی 3 پروازوں کو اسلام آباد کی جانب روانہ کرنا پڑا۔ جو اسلام آباد ایئرپورٹ پر لینڈ کیں جبکہ لاہور آنے اور جانے والی پانچ مختلف ملکی اور غیر ملکی پروازیں بھی تاخیر کا شکار رہیں۔ مزید برآں دھند میں شدت کی وجہ سے کراچی، کوئٹہ اور لاہور کے درمیان چلنے والی مختلف مسافر ٹرینیں بھی 2 سے 5 گھنٹوں کی تاخیر کا شکار رہیں۔ جس سے فضائی اور ٹرین مسافروں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔